اردو کی ترقی و تحفظ کے لیے نئے عزم کے ساتھ سب مل کر محنت کریں: ولی رحمانی

امارت شرعیہ کے زیر اہتمام اردو تحریک سے وابستہ نمائندہ شخصیات کے مشاورتی اجلاس میں کئی اہم تجاویز منظور

مولانا ولی رحمانی، تصویر آئی اے این ایس
مولانا ولی رحمانی، تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

پٹنہ: اردو کی بقاء، تحفظ اور ترویج و اشاعت کے موضوع پر المعہد العالی امارت شرعیہ کے کانفرنس ہال میں امیر شریعت مولانا محمد ولی رحمانی کی صدارت میں اردو تحریک سے وابستہ اہم افراد، ملی، سماجی و سیاسی کارکنان، اردو کے اساتذہ، دانشوران ا ور نمائندہ شخصیات کا ایک اہم مشاورتی اجلاس منعقد ہوا۔

اپنے صدارتی خطاب میں امیر شریعت مولانا ولی رحمانی نے اردو کو پیش آئند مسائل اور اس کے حل پر تفصیل کے ساتھ روشنی ڈالی، آپ نے قومی تعلیمی پالیسی کے حوالہ سے اردو کو پیش آنے والے اندیشوں اور خطرات کی طرف بھی نشان دہی کی، آپ نے اجلاس میں شرکت کے لیے تشریف لائے مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آج کی مجلس میں پٹنہ شہر کے حضرات نہیں ہیں بلکہ صوبہ بہار کے مختلف حصوں سے اہل علم اور اردو سے محبت کرنے والے حضرات تشریف لائے ہیں، جونہ صر ف اردوداں ہیں، بلکہ اردو کے شیدائی ہیں، اردو کے لیے کچھ کرتے، کرتے رہنے اور کر گزرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں، دلوں میں چھپا ہوا یہ حوصلہ عمل کے سانچہ میں ڈھل جائے، جوش اور ہوش کے ساتھ کاریگری ہو تو بڑی بات بنے گی اور بہت سی بگڑی بن جائیگی، اردو ہم سے آرزومندی دردمندی، فکر مندی کی طلبگار ہے، اردو چاہتی ہے کہ جو ان کی زبان پر ہے اس کے لئے وہ زبان کھولیں، جو ان کے خیالات، احساسات جذبات کوعام کرتی ہے، اور دوسروں کے کانوں میں رس اور مٹھاس گھولتی ہے، اسے طاقت پہنچائی جائے اردو کو دودھ پینے والے مجنوں سے واسطہ رہا ہے، اب اسے خون دینے والے مجنوں کی بھی ضرورت ہے۔


ولی رحمانی نے اردو کیسے بچے گی، کس طرح پھلے پھولے گی اس کے لیے نسخہ اکثیر بتاتے ہوئے کہا کہ ہم اردو بولیں گے، لکھیں گے، اردو کو پھیلائیں گے، تو اردو آگے بڑھے گی، ترقی کرے گی، آنے والی نسل کو اردو پڑھائیں گے، انہیں تہذیب سے آراستہ کریں گے، تو سماج میں شائشتگی اور تمیز آئے گی، پروفیسر رگھوپتی سہائے فراق گورکھپوری نے غیر مسلم اردو مصنفین کے اجلاس میں یادگار جملہ کہا تھا، ”ہم چاہتے ہیں کہ ہماری نئی نسل اردو سیکھے، تاکہ انہیں ڈرائنگ روم میں بیٹھنے اور بولنے کا سلیقہ آجائے“۔ زبانیں تو سب پیاری ہیں، اردو کا کمال یہ ہے کہ جہاں سے بھی گزرتی ہے، سلیقہ چھوڑ جاتی ہے۔

قومی تعلیمی پالیسی کے حوالہ سے ولی رحمانی نے کہا کہ اس پوری تعلیمی پالیسی میں کہیں اردو کا ذکر نہیں ہے، جبکہ ابھی شمالی ہندوستان میں رابطہ کا ایک بڑا ذریعہ اردو ہے، جسے زبردستی ہندی کہا جاتا ہے، اب نئی قومی تعلیمی پالیسی 2020 کے ذریعہ ایسی کوششوں کو آگے بڑھایا جائے گا، اور اردو کے لئے راہیں بند کی جائیں گی۔ آپ نے شرکاء سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ آپ حضرات اردو والے ہیں، اردو کے لئے جو ادارے اور شخصیتیں کام کرتی رہی ہیں، انہیں بھی یہاں جمع کرنے کی کوشش کی گئی، پورے بہار میں صدا لگا دی گئی، تاکہ اردو کا نیا کارواں تیار ہوسکے، نئے جوش اور نئے ارادہ کے ساتھ، امارت شرعیہ نے محسوس کیا کہ اردو کے محاذ پر سناٹا مہیب ہوتا جا رہا ہے، توایک جوابدہ ادارہ کی حیثیت سے اس کے نمائندے بہار کے اضلاع میں پہنچے، عوام و خواص کو جھنجھوڑا، انہیں ذمہ داری یاد دلائی اور پورے بہار میں حرکت پیدا کی، اب یہ عوامی طاقت آپ کے ساتھ ہے، اردو والے اس سے کام لیں۔


ولی رحمانی نے کہا کہ امارت شرعیہ تو فکر والوں، درد والوں کا کارواں ہے۔ اب آپ کمان سنبھالیں، جو تنظیمیں، انجمنیں ادارے ہیں، وہ احساس شکر کے ساتھ ادائے فرض کی نیت سے اپنی ذمہ داری نبھائیں اور مشترکہ کوششوں کی راہ اپنائیں، آپ چاہیں گے توامارت شرعیہ آپ کے ساتھ خادمانہ پیچھے پیچھے چلے گی۔ تمہیدی گفتگو کرتے ہوئے امارت شرعیہ کے قائم مقام ناظم مولانا محمد شبلی القاسمی نے کہا کہ یہ میٹنگ ایسے وقت میں امیر شریعت کے حکم پر بلائی گئی ہے، جو وقت اردو کے لیے کھڑے ہونے کا ہے، اور اس کے لیے فکر کرنے کا ہے، اس نشست پر پورے ملک کی نگاہ ہے، آپ کے فیصلوں کا لوگوں کو انتظار ہے، ہمیں امید ہے کہ یہ اجلاس پورے ملک میں اردو کی ترقی کے تعلق سے سنگ میل ثابت ہو گا۔ انشاء اللہ آپ کے فیصلوں سے اردو کا مستقبل روشن ہو گا۔

وہیں اعجاز علی ارشد سابق وائس چانسلر مولانا مظہر الحق عربی فارسی یونیورسٹی نے کہا کہ اردو تحریک کے اندر زندگی پیدا کرنے کے لیے ایک طویل مدتی منصوبہ بنانے اور صبر و ضبط کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے، اس کام کے لیے ہمیں ترجیحات متعین کرنی ہوں گی، اپنی عددی قوت کا ثبوت دینا ہوگا اور دیوانگی کے ساتھ کام کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس سلسلہ میں کئی مفید مشورے دیئے۔ ان کے علاوہ اجلاس میں کئی مقررین نے اردو کے حوالے سے اپنی اپنی باتیں کہیں۔


اجلاس میں اس تحریک کو تسلسل کے ساتھ قائم رکھنے کے لیے تمام شرکاء کی اتفاق رائے سے اردو کارواں اور اردو دستہ کے نام سے دو کمیٹی تشکیل دی گئی، اردو کارواں کے صدر اعجاز علی ارشد، نائب صدر پروفیسر صفدر امام قادری، جنرل سکریڑی ڈاکٹر ریحان غنی اور سکریٹری انوار الہدیٰ کو بنایا گیا۔ اور انہیں مجاز کیا گیا کہ وہ ضلعی سطح پر کمیٹیاں بنائیں اور اس کمیٹی میں مزید ممبران کا اضافہ کر لیں، ساتھ ہی اردو دستہ کے لیے بھی ذمہ داروں اور ممبران کا انتخاب کر لیں۔ اجلاس کا آغاز مولانا محمد حسان کی تلاوت کلام پاک سے ہوا، مولانا قاری مجیب الرحمن نے نعت اور مولانا شمیم اکرم رحمانی صاحب نے اردو میں نظم پیش کی۔ مولانا محمد عادل فریدی نے اردو کے تعلق سے ہو رہی نا انصافیوں کا تذکرہ کیا اور ان کے حل کی تجویز پیش کی۔ اجلاس کی نظامت قائم مقام ناظم امارت شرعیہ مولانا محمد شبلی القاسمی نے کی، اور امیر شریعت مولانا ولی رحمانی کی دعا پر اس کا اختتام ہوا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔