سری نگر تصادم میں لشکر طیبہ کا اعلیٰ کمانڈر ہلاک: آئی جی کشمیر

ترجمان نے کہا کہ حفاظتی عملے نے بھی پوزیشن سنبھال کر جوابی کارروائی کا آغاز کیا جس میں ایک ملی ٹنٹ ہلاک ہوا، جس کی بعد میں شناخت لشکر کمانڈر سیف ﷲعرف خالد بھائی ساکن پاکستان کے بطور ہوئی ہے۔

وجے کمار، تصویر یو این آئی
وجے کمار، تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

سری نگر: جموں وکشمیر کے گرمائی دارلخلافہ سری نگر کے دارا ہارون علاقے میں اتوار کی صبح سیکورٹی فورسز کے ساتھ مختصر جھڑپ میں ایک ملی ٹنٹ کمانڈر ہلاک ہو گیا ہے۔ آئی جی کشمیر وجے کمار کے مطابق ہارون تصادم میں لشکر طیبہ کا اعلیٰ کمانڈر ہلاک ہوا ہے۔

پولیس کے ایک ترجمان نے بتایا کہ ’ملی ٹینٹوں کی موجودگی کی اطلاع موصول ہونے کے بعد سیکورٹی فورسز نے اتوار کو علی الصبح دارا ہارون کے علاقے کو محاصرے میں لے کر جونہی تلاشی آپریشن شروع کیا تو اسی اثنا میں وہاں پر موجود ملی ٹنٹوں نے فورسز پر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی‘۔


انہوں نے کہا کہ حفاظتی عملے نے بھی پوزیشن سنبھال کر جوابی کارروائی کا آغاز کیا جس میں ایک ملی ٹنٹ ہلاک ہوا، جس کی بعد میں شناخت لشکر کمانڈر سیف ﷲعرف خالد بھائی ساکن پاکستان کے بطور ہوئی ہے۔ ترجمان کے مطابق مہلوک کمانڈر سیکورٹی فورسز پر حملوں کی منصوبہ بندی کرنے اور اُنہیں پایہ تکمیل تک پہنچانے میں پیش پیش رہتا تھا۔

ترجمان نے کہا کہ خالد بھائی کے خلاف جرائم کی ایک لمبی فہرست موجود ہے اور وہ عام شہریوں کو تشدد کا نشانہ بنانے کی کارروائیوں میں بھی ملوث رہا ہے جبکہ اُس کے خلاف متعدد کیس بھی درج ہیں۔ دریں اثنا انسپکٹر جنرل آف پولیس کشمیر رینج وجے کمار نے بتایا کہ سری نگر کے دارا ہارون میں اتوار اعلیٰ الصبح سیکورٹی فورسز اور ملی ٹینٹوں کے درمیان ایک مختصر جھڑپ میں لشکر طیبہ کا اعلیٰ کمانڈر جس کی شناخت خالد بھائی ساکن کراچی پاکستان کے بطور ہوئی ہے مارا گیا۔


انہوں نے کہا کہ مہلوک کمانڈر سال 2016 سے ہارون دارا علاقے میں سرگرم تھا اور اُس کی سیکورٹی ایجنسیوں کو کافی عرصے سے تلاش تھی۔ علاوہ ازیں پولیس نے عوام سے پر زور اپیل کی ہے کہ وہ جائے تصادم پر جانے سے تب تک گریز کیا کریں جب تک اسے پوری طرح سے صاف قرار نہ دیا جائے کیونکہ پولیس اور دیگر سلامتی ادارے لوگوں کے جان و مال کے محافظ ہیں لہذا لوگوں کی قیمتی جانوں کو بچانے کے لئے پولیس ہر ممکن کوشش کرتی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔