عظیم مجاہد آزادی اشفاق اللہ خاں وارثی حسرتؔ، یوم شہادت کے موقع پر خصوصی پیش کش

عظیم انقلابی اشفاق اللہ خاں نے 94 سال قبل آج ہی کے دن برطانوی استعمار کے خلاف آواز بلند کرنے کی پاداش میں ہنستے ہنستے جان دے دی تھی جن کی شہادت تاریخ ہند کے صفحات پر آب زر سے درج ہے

عظیم انقابی اشفاق اللہ خاں
عظیم انقابی اشفاق اللہ خاں
user

شاہد صدیقی علیگ

اشفاق اللہ خاں شہید غیور، دلیر اور حوصلہ مندی کے مرقع تھے جو شاہجہاں پور اودھ سے تعلق رکھتے تھے، ان کی پیدائش 22؍اکتوبر 1900ء کو محلہ یمن زئی کے ایک زمیندار شفیق اللہ خاں کے گھر میں ہوئی تھی۔ جب اشفاق نے ہوش سنبھالا اس وقت پورے ملک میں انگریزی غلامی کے خلاف تحریکیں زوروں پر تھی، خود ان کے اسکول کے ایک طالب علم راجہ رام بھارتیہ کے ایک انقلابی واردات میں شریک ہونے کے شک میں پولیس نے چھاپہ مارا تھا، جسے دیکھ کر ان کی رگوں میں بہنے والے انقلابی لہو کی روانی تیز ہوگئی اور انہوں نے اپنے انقلابی جذبات کی تسکین کے لیے ہندوستان کی آبرو و بقا پر مرمٹنے والے جیالوں کی تلاش شروع کر دی، اسی ضمن میں اشفاق نے اپنے دوست بنارسی لعل سے رام پرشاد بسمل سے ملوانے کی التجا کی، جو مین پوری کیس میں مفرور تھے۔ 1920 میں برطانوی حکمراں کی طرف سے عام معافی کے بعد مین پوری سازش میں قید کیے گئے افراد کو رہا کر دیا گیا۔ بسمل جو اس وقت تک گرفتاری سے بچ چکے تھے، فروری 1920 میں شاہجہاں پور واپس آئے، جس کے بعد بسمل اور اشفاق اللہ کے مابین ایسی دوستی ہوئی جسے آج گنگا-جمنی تہذیب کی علامت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

بہرکیف اشفاق اللہ خاں نے جذبہ حریت کی وجہ سے نویں درجہ کے بعد تعلیم کو خیر باد کہہ دیا۔ 1922 کی دہائی کے وسط میں نوجوان انقلابیوں نے ہندوستان سوشلسٹ ریپبلکن ایسوسی ایشن (HSRA) کی بنیاد رکھی، اشفاق اللہ خاں بھی اس کے سرگرم رکن بن گئے۔ ایچ ایس آر اے نے 1923 میں "انقلابی" کے عنوان سے اپنا منشور شائع کیا، انقلابیوں کا نظریہ تھا کہ عدم تشدد کے سہارے ہندوستان غلامی کی جنگ نہیں جیت سکتا، چنانچہ مسلح انقلاب ناگزیر ہے اور جسے عملی جامہ پہنانے کے لیے فنڈ کی ضرورت تھی، لہٰذا 8 ؍اگست 1925ء کو رام پرشاد بسمل کے گھر پر انقلابیوں نے ایک ہنگامی میٹنگ کا اہتمام کیا، جس میں سرکاری خزانے کو لوٹنے کی تجویز رام پرشاد بسمل نے پیش کی، اس تجویز کی مخالفت دور اندیش اشفاق اللہ نے کی، کیونکہ ان کے نزدیک تنظیم ابھی اتنی منظم نہیں تھی، لہٰذا اس واردات کو انجام دینے کے لیے مناسب وقت کا انتظار کرنا چاہیے، علاوہ ازیں انہوں نے کہا کہ وہ کمزور یا بزدل نہیں ہیں بلکہ کوئی بھی قدم اٹھانے سے قبل اس کے تمام پہلوؤں پر غور کرنا ضروری ہے، انہیں خدشہ تھا کہ اس واردات کے بعد تنظیم سرکار کی نگاہ میں آجائے گئی اور ان کا اندیشہ صحیح نکلا۔ کاکوری کیس میں شریک ان کے رفیق من متھ ناتھ گپت نے ان کی مستقبل سناسی کو سراہتے ہوئے لکھا کہ ’’تاریخ نے ثابت کر دیا کہ اشفاق اللہ صحیح تھے اور ہم غلطی پر تھے‘‘۔


بہرحال بسمل کی قرارد اد کو تمام شرکاء کی رضامندی کے بعد اشفاق اللہ خاں بھی اسے انجام دینے کے لیے کمربستہ ہوگئے اور اگلے روز 9؍اگست کو رام پرشاد بسمل اور اشفاق اللہ خاں سمیت 10 انقلابی شاہجہاں پور سے 8؍ڈاؤن سہارنپور لکھنؤ پسنجر ٹرین میں سوار ہوئے۔ جب ٹرین نے عالم نگر اسٹیشن کی جانب رخ کیا تو سیکنڈ کلاس کے ڈبے سے زنجیر کھینچ کر دو جنگجوؤں نے خزانے کی تجوری کو گرا دیا، اشفاق اللہ خاں نے تنہا ہی چھینی اور ہتھوڑے کی ضربوں سے آہنی تجوری کو توڑا اور خزانہ لے کر لکھنؤ کی جانب گامزن ہوگئے۔ خزانے کی لوٹ کی خبر جنگل میں لگی آگ کی طرح پھیل گئی۔ جائے واردات سے پولیس نے ایک چادر برآمد کی، جس پر شاہجہاں پور کے ایک دھوبی کی مہر تھی۔ علاوہ ازیں لوٹ کے چند لوٹے گئے نوٹ بھی شاہجہاں پور سے پکڑے گئے۔ جس بنا پر پولیس تحقیقات کا سارا رخ شاہجہاں پور منتقل ہوگیا۔

کاکوری کیس انگریزوں کی طاقت، ان کی رعونت پر ایک کاری ضرب تھی، جس سے برطانوی حکومت بوکھلا گئی۔ برطانوی وائسرائے لارڈ ریڈنگ نے فوراً اسکاٹ لینڈ یارڈ پولیس محکمہ کو تفتیش کے لیے نامزد کیا، خفیہ پولیس نے ساتھیوں کی غداریوں کے سبب ایک مہینے کے اندر رام پرشاد بسمل سمیت 40؍ سے زائد جانبازوں کو گرفتار کرلیا، مگر اشفاق اللہ، شچندر ناتھ بخشی اور چندر شیکھر آزاد فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ اشفاق اپنے پیر مرشد حضرت وارث علی شاہ کی درگاہ (بارہ بنکی دیوا شریف) پر حاضری دے کر بنارس ہوتے ہوئے بہار پہنچے۔ جہاں پلامئو میں ڈالٹن گنج کی ایک انجینئرنگ فرم میں ملازمت کی۔ مگر ملک کی آزادی کی خواہش نے انہیں وہاں بھی بے کل رکھا، لہٰذا انہوں نے بیرونی ملک جاکر تنظیم کو نئے سرے سے تشکیل دینے کی حکمت عملی تیار کی، جس کی خاطر اشفاق دلّی آئے، مگر ان کے ایک دوست نے سیاہ بختی کا ثبوت دے کر ان کی مخبری کر دی۔ آخر کار 8؍ستمبر 1929ء علی الصبح پولیس نے ان کو اپنی تحویل میں لے لیا۔


اشفاق اللہ خاں نے قید و بند کی صعوبتیں گونڈا اور فیض آباد جیل میں برداشت کیں۔ جیل میں انہوں نے نماز، قرآن مجید اور روزوں کا پابندی سے پورا اہتمام کیا۔ مقدمہ کی کارروائی لکھنؤعدالت میں شروع کر دی گئی۔ اشفاق اللہ خاں کے بھائی ریاست اللہ خاں نے کرپا شنکر بجیلہ کو مقدمہ کی پیروی سونپی، جنہوں نے مقدمہ میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی، مگر الٹی ہوگئیں سب تدبیریں کے مترادف HSRA کے دو اراکین بنواری لعل اور بھوپندر سانیال سرکاری گواہ بن گئے۔ پنڈت جگت نارائن ملا نے پبلک پراسیکیوٹرکی خدمت انجام دی۔

مقدمہ کے دوران انگریزوں نے اشفاق اللہ خاں کو سرکاری گواہ بنانے اور رام پرشاد بسمل کے خلاف گواہی دینے کے لیے رضامند کرنے کی خاطر پولیس انسپکٹر تصدق حسین کو نامزد کیا، جس نے اشفاق اللہ کو مذہب کا واسطہ دے کر بھی برغلانے کی لاکھ کوششیں کیں، کہ تم کیسے مسلمان ہو، جو ایک ہندو کا ساتھ دے رہے ہو، جو اس ملک کو ہندو راشٹر بنانا چاہتے ہیں، اس کے جواب میں اشفاق اللہ خاں نے کہا کہ رام پرشاد بسمل کا ہندو راشٹر آپ کی برطانوی حکومت سے بہتر ہوگا۔ لکھنؤ میں آپ کا مقدمہ ڈپٹی کلکٹر عین الدین کی کورٹ کے بعد جج جان ریجنلڈ ولیم بینیٹ کی زیر سماعت آیا۔ جس نے کاکوری کیس سازش کے تحت 6؍اپریل 1926 ان کو تین پھانسیوں اور دو حبس دوام کی سزا سنائی۔ ان کے علاوہ اس مقدمہ میں رام پرشاد بسمل، راجندر لہری اور ٹھاکر روشن سنگھ کو بھی سزائے موت سنائی گئیں۔


19؍دسمبر 1927ء کو اشفاق اللہ خاں نے فیض آباد جیل بیرک میں معمول سے قبل بیدار ہوکر غسل کیا، دھلے ہوئے کپڑے پہنے، نماز ادا کی، بائیں باز و پر کلام الہٰی کو لٹکایا اور تختہ دار کی جانب اس شان سے پیش قدمی کی کہ ان کا ہر قدم دوگنا فاصلہ طے کرتا تھا۔ پھانسی کے پھندے کو بے ساختہ چوما اور قرآنی آیات پڑھتے رہے یہاں تک کہ پھندا کس گیا اور آپ حیات جادواں پا گئے۔

کچھ آزرو نہیں ہے، آزرو تو یہ ہے کہ

رکھ دے کوئی ذرا سی خاک وطن کفن پر

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔