1857 کا عظیم گوریلا مجاہد مغل شہزادہ فیر وز شاہ، یوم وفات کے موقع پر خصوصی پیش کش

برطانوی استعمار کے خلاف پہلی ملک گیر جنگ آزادی 1857ء کے گوریلا مجاہدین میں مغل شہزادہ فیروز شاہ کو اولیت حاصل ہے جنہوں نے شمالی ہند کے بیشتر مورچوں پر گوریلا جنگ کرکے انگریزوں کے چھکّے چھڑا دیے تھے

علامتی تصویر
علامتی تصویر
user

شاہد صدیقی علیگ

برطانوی استعمار کے خلاف پہلی ملک گیر جنگ آزادی 1857ء کے گوریلا مجاہدین میں مغل شہزادہ فیروز شاہ کو اولیت حاصل ہے جنہوں نے شمالی ہند کے بیشتر مورچوں پر گوریلا جنگ کرکے انگریزوں کے چھکّے چھڑا دیے تھے، ان کی شب خون تکنیک کے سامنے انگریز ی فو ج لاچار اور بے بس نظر آتی تھی ۔ جب انقلاب 1857ء کاآغاز ہوا توان کی عمر بمشکل بیس سال‘تھی۔جو مر زا ناظم کے لخت جگر اورشاہ عالم ثانی کے پوتے تھے،جو آگرہ میں رہائش پزیر تھے،ان کی شریک حیات نواب تغلق زمانی بیگم نے وفا شعار ی کے ساتھ پورا ساتھ دیا۔

آنجہانی پنڈت جواہر لعل نہرو شہزادہ فیروز شاہ کی گوریلا مہارت کو ان الفاظ میںخراج تحسین پیش کرتے ہیں کہ ’’اس تحریک نے بعض اچھے گوریلا لیڈر پیدا کیے ان میں بہادر شاہؔ ظفر کا ایک عزیز فیر وز شاہ بھی تھا۔‘‘

شہزادہ فیروز شاہ 11؍ ا گست 1856ء کو حج کی سعادت حاصل کرکے مئی 1857ء میں وطن لوٹے تو نو آبادیاتی نظام کے خلاف علم بلند ہو چکا تھا جس میں وہ بھی فوراً کود پڑے۔ فیروز شاہ نے مرزا ہمایوں کے نام سے ’’چہارم ماہ محر م الحرام ۱۲۷۴ مطابق یک ودوم ماہ اگست1857 بروز یکشبہ مندسور کے تخت پربیٹھ کر اپنی حکومت کااعلان کر دیا اور انگریزوں کے خلاف وفاقی محاذ بنانے کے لیے ہمسایہ ریاستوں پرتاپ گڑھ، جاورہ، سیتامئو، رتلام اور سالم بارکے حکمرانوں کو فرمان روانہ کیے۔ مندسور میں تخت نشینی کے بعد فیر و زشاہ کے لشکر جرار میں مہاراجہ کی فوج سے نکل کر بہت سے افغانی اور دیگر غیر ملکی فوجی بھی شریک ہوگئے تھے۔


ایک اندازے کے مطابق ’’5000 میواتی، 500 افغان، بھیم نائک کی کمان میں 200 بھیم، 400 مکرانی، 3000 مختلف طبقات کے لوگ اور 1000 گھوڑسوار شہزادے کے قافلہ کا حصہ تھے۔ فیروز شاہ کی بڑھتی ہوئی طاقت فرنگی اقتدار اعلیٰ کے سینے پر سانپ لوٹنا جیسا تھا، جس پر قدغن لگانے کے لیے ڈیورینڈ اور اسٹیورٹ کی کمان میں فوجی دستے بھیجے، جنہیں مندسور پر قبضہ کرنے کے لیے انتھک کاوشیں کرنی پڑیں، محدود وسائل کی وجہ سے شہزادے کو پیچھے ہٹنا پڑا، وہ مندسور سے ننگڑھ چلے آئے اور فوج کو نئے سرے سے منظم کرنے کی تگ و دو جاری رکھیں۔

موقع و محل کی مناسبت سے شہزاد ے نے وسطی ہند سے شمالی ہند کا رخ کیا۔ جس کی خبر پاکر انگریز کے آلہ کار جیاجی راؤ سندھیا نے چمبل ندی پر بنے کشتیوں کے پل کی تمام کشتیوں کو غائب کرا دیا، مگر یہ مرد مجاہد کہاں رکنے والے تھے۔ انہوں نے دریائے چمبل کو دیہاتی طریقے سے مٹی کے گھڑوں کو الٹ کر پل بنا کر پار کر لیا ۔ شہزادہ گوالیار سے دھول پور پہنچے وہاں کے تحصیلدار سے ایک لاکھ روپیہ لیااور دلّی کی طرف بڑھے لیکن راستہ میں ہی شکست کی خبر کے بعد اپنا ارادہ بدل دیا۔ بعد ازاں میوات گئے وہاں سے شیخ فضل علی رسالہ دار اور جنرل عبدالصمد کو ساتھ لیا اور 26 ستمبر کو متھرا پہنچے جہاں ہیرا سنگھ صوبے دار کی 72 دیسی پیادہ فوجی ٹکڑی ملی تو آگرہ میں ڈاکٹر وزیر خاں سرجن بھی ان کے ساتھ شامل ہو گئے۔


فیروز شاہ نے بخت خاں، مرزا کوچک سلطان، ولی داد، نواب تفصل حسین خاں کے ہمراہ خداگنج (فرخ آباد) معرکہ آرائی میں حصہ لیا، شکست کے بعد شاہجہاں پور چلے گئے ،جہاں کچھ دن غلام قادر کے ساتھ گزار کرلکھنؤ پہنچے جب تک مقابلہ جاری رہا، فیروز شاہ وہیں مقیم رہے۔ سقوط لکھنؤ کے بعد نکلے تو تھوڑی سی فوج اور ایک توپ کے ساتھ بتاریخ 10 اپریل 1858 بریلی کے خان بہادر خاں کے پاس آگئے۔ 7 رمضان 1275 مطابق 22 اپریل 1858 سنبھل ہوتے ہوئے مراد آباد میں داخل ہوئے۔ جن کی ایک آواز پر عوام کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر سڑکوں پر نکل آیا۔ فیر وز شاہ نے وہاں ایک محضر نامہ بنایا جس پر سولہ ہزار آدمیوں نے بقسم شرعی شرکت کے واسطے دستخط کیے۔

24 اپریل 185 رام پور کے نواب بھائی کاظم علی خاں نے مرادآباد پر چڑھائی کر دی۔ فیروز شاہ کی فوج کا ظم کے فوجیوں پر آسمانی قہر بن کر ٹوٹی۔ فیروز شاہ نے رام پور کی فوج سے مخاطب ہو کر کہا کہ ’’افسوس تم مسلمان ہو کر ہماری جان کے درپے ہو اور کفار کی حمایت میں تکلیف دینا ہم کو گوارا کرتے ہو۔ 27 اپریل کو بریگیڈر جنرل جونس کی پیش قدمی کی اطلاع ملتے ہی فیروز شاہ نے شہر کو الوداع کہہ دیا اور آنولہ جا پہنچے۔ آنولہ سے بدایوں آتے ہوئے ککرالہ میں 29 اپریل 1858 کو ڈاکٹر وزیر خاں، مولانا فیض احمد کے ساتھ مل کر جنرل پینی کے ماتحت انگریزی فوج سے دو دو ہاتھ کئے، جس میں ایک ہزار مجاہدین شہید ہوئے، لیکن فیر وز شاہ ، وزیر خاں اور فیض بدایونی انگریزی صف بندی توڑ کر بریلی پہنچ گئے۔


فیروز شاہ نے بریلی میں عوامی بیداری کے واسطے ایک جہاد نامہ تیار کرایا ۔ جو ان کی بصیرت کا اعلیٰ نمونہ ہی نہیں بلکہ دلی جذبات کا ترجمان بھی ہے۔ جس میں انہوں نے ہندو اور مسلمان دونوں سے ملک و دین کی حفاظت اور آزادی کے لیے جانثاری کی التجا کی۔5 مئی 1858 کو تجربہ کار سر کولن کی فوج اور انقلابیوں کے درمیان بریلی میں نکٹیا ندی کنارے کانٹے کی ٹکر ہوئی، خان بہادر خان، شہزادہ فیر وز شاہ، ولی داد خاں نواب اسماعیل خاں کی سربراہی میں مجاہدین نے انگریزوں کے نہلے پہ دہلا جواب دیا مگر غدار وطن اور جدید اسلحہ سے آراستہ، آزمودہ کار انگریز فوجیوں کے سبب انقلابیوں کو شکست اٹھانی پڑی۔

بجہت بیگم حضرت محل، شہزادہ فیروز شاہ، میاں صاحب بخت خاں اور نانا صاحب جیسے انقلابیوں کی فوجوں محمدی جمع ہوگئیں جہاں سے 18 مئی کو کیمبل نے انہیں بے دخل کر دیا۔ جون میں فیر وزشاہ رسول آباد آئے ،جیت بہادر اور موسی علی کے ساتھ اناؤ پر قابض ہونے کی کوشش کی لیکن انگریزی فوج کے آنے سے ارادہ ملتوی کرکے رسول آباد کو چھوڑ دیا۔ مزید 10 جون 1858 کو بانگر مئو صفی پور پر مسلط ہو گئے۔ فیروز شاہ نے اللہ داد خان کوتحصیل دار کے عہدے پر فائز کیا۔ فیروز شاہ کی 29 جولائی کو رحیم آباد اور 11 اگست کو سندیلہ میں معرکہ آرائی ہوئیں، دونوں ہی مقام پر ہزیمت اٹھانی پڑی۔


حالات بھانپ کرفیر وزشاہ نیپال چلے گئے، 18 ستمبر کو فیروز شاہ دوسرے مغل شہزادوں کے ساتھ نورنگ آباد اور اکتوبر میں سیتاپور کے قرب و جوار میں دیکھے گئے۔ بتاریخ 18 نومبر خیر آباد پہنچے، وہاں اپنی سرگرمیوں سے بیرونی حکام کے ہوش اڑاکر محمود آباد آئے۔ وہ ہم وطنوں کی غداری سے دل برداشتہ ضرور ہوئے مگر آزادی کی تمنا انہیں ہرلمحہ بے چین رکھتی تھی چنانچہ انہوں نے انگریزوں سے فیصلہ کن لڑائی کے لیے اپنے ساتھیوں کو دانستہ طورپر بھوک وپیاس کی شدت میں جمع کیا، بڑے دل سوز اور وجد آفریں اسلوب میں انہیں مخاطب کیا، ’’میں نے تن بہ مرگ دیا ہے جسے مرنا ہو میرا ساتھ دے وگرنہ اختیار رکھتا ہے چلا جائے۔کہتے ہیں کہ اس دن شہزادے پر فاقہ گزرا تھا۔ ان کی باتیں دلوں میں تیر کی ما نند چبھ گئیں۔

فیروز شاہ نے ظریف خاں، ڈاکڑ وزیر خاں، سمیت انقلابیوں ایک ہزار نے یکم دسمبر 1858 کو بمقام بسوا میں انگریزی فوج سے مد مقابل ہوئے۔ غداروں کی وجہ سے آزادی کے شعلے سرد پڑتے جا رہے تھے لیکن مشن کو ادھورا چھوڑنا شہزادہ فیروز شاہ کی فطرت کے خلاف تھا۔ چنانچہ کئی برس جے پور، بیکانیر یا دامن کہسار دکن میں سرگرداں رہا۔ فیروز شاہ، تانتیا ٹوپے اور راؤ صاحب کے ساتھ مل کرمختلف مورچوں پرمقابلہ کرتے رہے، تاہم تانتیا ٹوپے کی گرفتاری کے بعد فیر وزشاہ کو اپنے اوپر خطر ے کے بادل منڈلانے کا احساس ہو چکا تھا۔ چنانچہ سرزمین ہند پر شہزادہ فیروز شاہ نے پانچ سو حامیوں کو لے کراپنی ا ٓخری جنگ بتاریخ 2 اگست 1859 کرنل نوٹ کے ساتھ پترائی ضلع ساگر میں کی۔


نباض وقت فیروز شاہ نے حالات کے مدنظر اپنی حکمت عملی میں تبدیلی کی اور ا نگریزوں کو مسلم ممالک کی مدد سے ملک سے اخراج کرنے کا پلان بنایا، راستے میں لڑتے، جھگڑتے، دفاع اور مقابلہ کرتے نکل گئے۔ فیروز شاہ نے بے سر و سامانی کی حالت میں انگریزوں کے خلاف تعاون کی تلاش میں قندھار، بخارہ، تہران، ہرات، بخارا، یونیر (سوات)، بدخشاں، سمرقند، سلطنت عثمانیہ کا سفر کیا مگر کون پرائی آگ میں گرتا ہے، چنانچہ تمام مقامات سے مایوس ہو کر جون 1875 میں ملک حجاز چلے گئے اور وہیں 17 دسمبر 1877 کو پاکیزہ سرزمین پر آسودہ خواب ہو گئے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔