لکھیم پور تشدد: نوجوت سنگھ سدھو کا دھرنا، بھوک ہڑتال، خاموشی بھی اختیار کی

نوجوت سنگھ سدھو نے مون ورت لینے کے بعد پارٹی کارکنان سے گھر لوٹ جانے کی اپیل کی۔ انہوں نے کارکنان سے یہ اپیل تحریری طور پر کی کیوں کہ اس دوران وہ لگاتار خاموش ہیں۔

دھرنے پر بیٹھے سدھو / ٹوئٹر @INCPunjab
دھرنے پر بیٹھے سدھو / ٹوئٹر @INCPunjab
user

قومی آوازبیورو

لکھیم پور: لکھیم پور تشدد معاملے میں مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ اجے مشرا ٹینی کے بیٹے آشیش کی گرفتاری کے مطالبے پر پنجاب کانگریس صدر نوجوت سنگھ سدھو نے دھرنا دیا۔ اس دوران انہوں نے خاموشی اختیار کی ہوئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق سدھو لگاتار دھرنے پر بیٹھے ہوئے ہیں اور انہوں نے 12 گھنٹے سے زیادہ وقت سے پانی تک نہیں پیا ہے۔

دھرنے کے دوران انہوں نے مون ورت رکھنے کا اعلان کیا جس سے مقامی انتظامیہ کے ہاتھ پیر پھول گئے۔ لکھیم پور پہنچنے پر سدھو نے مرحوم صحافی رمن کشیپ کی رہائش گاہ کے باہر دھرنا دیا اور متاثرین کے لیے انصاف کا مطالبہ کیا۔


سدھو کا کہنا تھا کہ جب تک کلیدی ملزم آشیش مشرا کو گرفتار نہیں کر لیا جاتا، وہ بھوک ہڑتال پر بیٹھے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس بیان کے بعد سے خاموش رہیں گا اور کسی سے کوئی بات نہیں کریں گے۔ سدھو نے مون ورت لینے کے بعد پارٹی کارکنان سے گھر لوٹ جانے کی اپیل کی۔ انہوں نے کارکنان سے یہ اپیل تحریری طور پر کی کیوں اس دوران وہ لگاتار خاموش ہیں۔

نوجوت سنگھ سدھو نے یوپی کی یوگی حکومت پر نشانہ لگاتے ہوئے کہا کہ حکومت اس تشدد کے ملزمان کا دفاع کر رہی ہے۔ آج اگر آپ کسان تحریک کو دیکھیں تو آپ کو معلوم چلے گا کہ کسانوں کا نظام سے یقین ختم ہو گیا ہے۔ وزیر کے بیٹے اور ملزم آشیش مشرا کو جانچ میں شامل ہونا چاہئے۔ کسانوں کی جدوجہد میں کسی لیڈر کو بھی قربانی دینی چاہئے۔ میں اپنے قول کا پکا ہوں، جب تک وزیر اجے مشرا کے بیٹے پر کارروائی نہیں ہوتی اس وقت تک میں بھوک ہڑتال پر بیٹھا رہوں گا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔