لو جہاد، آئی اے ایس جہاد، مارکس جہاد کے بعد کیا نرسنگ اور فٹبال جہاد کا نمبر ہے؟

ملک کی ترقی کے لئے جو اہم جز ہیں اس میں امن، محبت اور بھائی چارے کی بہت اہمیت ہے اور ذمہ دار اور محب وطن لوگوں کو اس طرح کے بیانات سے گریز کرنا چاہئے۔

بچے کو ویکسین لگاتی کیرالہ کی ایک نرس / تصویر بشکریہ ٹوئٹر / @manumavelil
بچے کو ویکسین لگاتی کیرالہ کی ایک نرس / تصویر بشکریہ ٹوئٹر / @manumavelil
user

سید خرم رضا

ہمیشہ سے سنتے آئے ہیں اور ملک اس پر فخر بھی کرتا رہا ہے کہ کیرالہ میں خواندگی کی شرح صد فیصد ہے اور تعلیم کے معاملہ میں وہ ملک کے دیگر صوبوں سے آگے ہیں۔ تعلیم ہی کیوں بھائی چارے اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے معاملہ میں بھی یہ ریاست ملک کی دیگر ریاستوں سے تھوڑا مختلف ہے۔ نرسنگ کے شعبے میں بھی اس ریاست نے اپنا لوہا منوایا ہے اور نرسنگ کا سیدھا تعلق خدمت خلق سے ہے۔

دہلی یونیورسٹی میں داخلہ کا عمل جاری ہے اور طلباء کی کوشش ہوتی ہے کہ ان کا داخلہ اس یونیورسٹی میں ہو جائے۔ پورے ملک سے طلباء اس یونیورسٹی میں داخلہ کی کوشش کرتے ہیں اور کبھی یہ سوال نہیں پیدا ہوا کہ کس صوبہ کے طلباء زیادہ داخلہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو تے ہیں اور کس کے نہیں لیکن اس یونورسٹی کے بڑے کالج کے پروفیسر نے ایک ایسا بیان دیا ہے جس کے بعد کیرالہ کے طلباء میں تو غصہ ہے ہی ساتھ میں ذی شعور طبقہ میں بھی یہ تشویش پیدا ہوگئی کہ ریاست کی بنیاد پر طلباء میں کیسے تفریق اور تقسیم کی جا سکتی ہے۔


بات دراصل یہ ہے کہ کیرالہ کے طلباء کو زیادہ نمبروں کی بنیاد پر داخلہ مل گیا اور دیگر بچے جن کے مارکس یعنی نمبر کم تھے وہ داخلہ کے لئے اہل نہیں پائے گئے۔ اس پر کروڑی مل کالج کے پروفیسر، جن کی آر ایس ایس سے قربت بتائی جاتی ہے، انہوں نے ایک بیان ٹھوک دیا کہ یہ ’مارکس جہاد‘ ہے اور انہوں نے کیرلہ کے تعلیمی بورڈ پر سوال کھڑے کر دیئے کہ بورڈ سے زیادہ نمبر ملنے کی وجہ سے ان بچوں کو یہاں داخلہ مل جاتا ہے اس لئے داخلہ کے ضابطوں میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔ ظاہر ہے ان کے اس بیان کی مخالفت ہونی تھی اور جیسے ہی طلباء تنظیموں نے اس بیان کی مخالفت کی تو بی جے پی کی طلباء تنظیم پروفیسر کے اس بیان کے حق میں کھڑی ہوگئی۔

کوئی بھی شخص یا پروفیسر کچھ ضابطوں کو لے کر اپنی تشویش کا اظہار کر سکتا ہے لیکن اس کو ’مارکس جہاد‘ جیسے الفاط سے خطاب کرنا داصل یہ ایک ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے۔ اس طرح کے جملوں اور مدوں سے سماج میں تقسیم اور تفریق پیدا ہوتی ہے اور اس کا سیدھا نقصان ملک کو ہوتا ہے کیونکہ اگر نئی نسل کے ذہنوں کو ہم اس طرح آلودہ کر دیں گے تو وہ تعلیم اور ترقی کے راستے سے بھٹک جائیں گے اور تفریق اور نفرت کے راستے پر چلنے لگیں گے جس کا مستقبل میں ملک کو نقصان ہوگا کیونکہ ہمارے طلباء تعلیم حاصل کرنے کے بجائے ایک دوسرے سے نفرت پر زیادہ توجہ دیں گے۔


ہندوستان کے ہر بڑے اسپتال میں نرسنگ اسٹاف میں اکثریت کا تعلق کیرالہ سے ہوتا ہے اور اسپتال انتظامیہ انہیں ان کی خدمت خلق کے جذبہ کی وجہ سے ترجیح بھی دیتا ہے۔ ہندوستان ہی کیا خلیجی ممالک میں بھی اس ریاست اور شعبہ کے لوگوں کا دبدبا ہے۔ تو کیا کل کو ہم کہیں گے کہ یہ ’نرسنگ جہاد‘ ہے۔ ہندوستان میں فٹبال کی جانب نوجوانوں میں رجحان بڑھ رہا ہے اور کیرالہ کے نوجوانوں میں اس کھیل کی جانب زبردست شوق دیکھا جا رہا ہے۔ وہاں کے کھلاڑی اب بہت تیزی کے ساتھ ہندوستان کے دیگر صوبوں میں اپنے لئے جگہ بنا رہے ہیں تو کیا اس کو فٹبال یا کھیل جہاد کہیں گے۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ سے جن بچوں کو آئی اے ایس کی کوچنگ دی جاتی ہے اس میں سے ایک اچھی تعداد کامیاب ہوگئی اور اس میں کامیاب ہونے والے تمام امیدوار اقلیتی فرقہ سے تعلق نہیں رکھتے تھے لیکن جامعہ کے نام کی وجہ سے اسے ’آئی اے ایس جہاد‘ کا نام دے کر ان بچوں کی لیاقت اور یو پی ایس سی پر سوال کھڑے کر دیئے۔

دراصل لو جہاد، آئی اے ایس جہاد اور مارکس جہاد جیسے جملوں سے ملک میں تفریق میں اضافہ ہوتا ہے اور کوئی بھی ملک اگر ان جملوں اور جھگڑوں میں الجھا رہا تو وہ ترقی نہیں کر سکتا، کیونکہ اس ملک کے نوجوانوں کی صلاحیتیں تقسیم ہو جاتی ہیں۔ ملک کی ترقی کے لئے جو اہم جز ہیں اس میں امن، محبت اور بھائی چارے کی بہت اہمیت ہے اور ذمہ دار اور محب وطن لوگوں کو اس طرح کے بیانات سے گریز کرنا چاہئے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔