تبدیلی لیبر قوانین: ملک کو مزدوروں سے استحصال والے زمانہ میں دھکیلنے کی کوشش، مایاوتی

مایاوتی نے ٹوئٹ کیا کہ بابا صاحب نے مزدوروں کے لئے یومیہ 12 گھنٹے کے بجائے 8 گھنٹے اور اس سے زیادہ کام کرنے پر اوور ٹائم دینے کا انقلابی کام اس وقت کیا تھا جب ملک میں مزدوروں کا استحصال شباب پر تھا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

لکھنؤ: بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) سپریمو مایاوتی نے ’لیبر قانون‘ کے زیادہ تر شقوں کو تین سال کے لئے ملتوی کیے جانے کے فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ 12 گھنٹوں تک کام لینے کی مزدوروں کو استحصال کرنے کے نظام کو دوبارہ ملک میں نافذ کرنا کافی تکلیف دہ اور بدقسمت ہے۔ لیبر قانون میں تبدیلی صرف مزدوروں کے وسیع مفاد میں ہونی چاہیے۔

بی ایس پی سپریموں نے سنیچر کو اپنے ٹوئٹ میں لکھا ’’بابا صاحب بھیم راؤ امبیڈکر نے مزدوروں کے لئے یومیہ 12 گھنٹے کے بجائے 8 گھنٹے اور اس سے زیادہ کام کرنے پر اوور ٹائم دینے کا انقلابی کام اس وقت کیا تھا جب ملک میں مزدوروں کا استحصال شباب پر تھا۔‘‘ انہوں نے سوال کیا کہ اب اسے بدل کر ملک کو اسی استحصال والے زمانے میں دھکیلنا کیا مناسب ہے؟

بی ایس پی سپریمو نے کہا کہ' کورونا آفت میں مزدوروں کا سب سے زیادہ برا حال ہے۔ پھر بھی ان سے 8 کے بجائے 12 گھنٹے کام لینے والے نظام کو دوبارہ ملک میں نافذ کرنا کافی تکلیف دہ ہے۔ لیبر قوانین میں تبدیلی ملک کے مزدوروں کے وسیع مفاد میں ہونی چاہیے نہ کہ ان کے مفاد کے برعکس۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں موجودہ حالات کے پیش نظر لیبر قانون میں ترمیم کر کے ایسا قانونی نافذ کیا جانا چاہئے کہ جن فیکٹری/پرائیویٹ اداروں میں مزدور کام کرتے ہیں وہیں ان کے رکنے کا بھی انتظام ہو۔ کسی بھی حالت میں وہ بھوکے نہ مریں اور نہ ہی انہیں نقل مکانی کے لئے مجبور ہونا پڑے۔

مایاوتی نے کہا کہ ویسے تو ابھی کام کے بارے میں کچھ پتہ نہیں ہے لیکن حکومتوں کی بے روزگاری و بھوک سے تڑپ رہے کروڑوں مزدوروں کے خلاف استحصال کرنے کی کوششیں لگاتار جاری ہے۔ یہ کافی تکلیف دہ اور غیر مناسب ہے۔ اس وقت مزدوروں کو سب سے زیادہ سرکاری مدد و ہمدردری کی ضرورت ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔