کسان تحریک: گاؤں گاؤں پنچایتوں کا دور جاری، آج دہلی کے لئے روانہ ہوں گے کھاپ چودھری

تصویر قومی آواز / آس محمد
تصویر قومی آواز / آس محمد
user

آس محمد کیف

مظفرنگر: کسان تحریک کا دائرہ وسیع ہوتا جا رہا ہے اور کسانوں کے غم و غصہ میں ہر دن کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے۔ حکومت کو جھکانے کے لئے احتجاج میں مزید شدت لائی جا رہی ہے اور گاؤں گاؤں میں پنچائتیں کر کے حکمت عملی تیار کی جا رہی ہے۔ دریں اثنا، کھاپ چودھریوں نے طے کیا ہے کہ وہ بھی کسان تحریک میں شامل ہوں گے۔ بھارتیہ کسان یونین کے سربراہ نریش ٹکیت کھاپ چودھریوں کے ساتھ دہلی کے لئے روانہ ہونے والے ہیں۔

کسان تحریک: گاؤں گاؤں پنچایتوں کا دور جاری، آج دہلی کے لئے روانہ ہوں گے کھاپ چودھری
کسان تحریک: گاؤں گاؤں پنچایتوں کا دور جاری، آج دہلی کے لئے روانہ ہوں گے کھاپ چودھری

مظفرنگر کے بااثر گاؤں سورم میں ہونے والی پنچایت میں طے کیا گیا ہے کہ کھاپ چودھری آج کسانوں کے غازی پور میں چل رہے دھرنے میں پہنچیں گے اور حکومت پر اس قانون کو واپس لینے کا دباؤ بنائیں گے۔ ان چودھریوں میں لٹیان کھاپ کے ویریندر سنگھ، بتیسا کھاپ کے بابا سورج مل، دیش کھاپ کے بابا سریندر سنگھ سمیت تمام چودھری ہوں گے۔ اطلاعات کے مطابق یہ چودھری پہلے بڑوت پہنچیں گے اور وہاں سے مجمع کی شکل میں غازی پور کے لئے کوچ کریں گے۔


بھارتیہ کسان یونین کے سربراہ نریش ٹکیت نے کہا کہ حکومت سرمایہ داروں کے ہاتھوں میں کھیل رہی ہے۔ کسان زرعی قوانین کی واپسی تک پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ حکومت کسانوں کی پُر امن تحریک کو نظرانداز نہیں کر سکتی۔ وہ کسانوں کو بدنام کر رہی ہے اور کسان انہیں ان کے ارادوں میں کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔

میرٹھ کے رام راج علاقہ سے بھی کسان دہلی جانے کی تیاری کر رہے ہیں۔ یہاں بڑے پیمانے پر راشن اور گرم کپڑے جمع کیے جا رہے ہیں۔ کسان امریک سنگھ کا کہنا ہے کہ یہ بچوں کے مستقبل کا سوال ہے۔ قوانین واپسی تک کوئی سمجھوتا نہیں ہوگا۔


مظفرنگر کے پورقاضی اور اتراکھنڈ کے کھادر علاقہ کے کسانوں میں بھی کسان تحریک کے حوالہ سے ہلچل نظر آ رہی ہے۔ یہاں کے کسان نوین راٹھی اور ظہیر فاروقی کی قیادت میں بڑی تعداد میں ٹریکٹروں اور کاروں کے ذریعے راشن لے کر کسان تحریک میں شرکت کرنے جا رہے ہیں۔

آر ایل ڈی کے ضلع صدر اجیت راٹھی نے گاؤں گاؤں ہو رہی کئی پنچایتوں میں شرکت کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ کسانوں میں بہت زیادہ غم و غصہ پایا جا رہا ہے اور حکومت کے رویہ سے وہ بہت ناراض ہیں۔ کسان یہ سمجھ گیا ہے کہ حکومت سرمایہ داروں کے اشارے پر چل رہی ہیں۔ گاؤں میں سب اس بات کو سمجھ رہے ہیں اور سب سے زیادہ بے چینی چھوٹے اور درمیانے کسانوں میں پائی جا رہی ہے۔ کسان زمین کو اپنی ماں کی طرح پیار کرتا ہے اور اب مسئلہ صرف روٹی کا ہی نہیں ہے، یہ وقار کی بھی لڑائی بن چکی ہے۔


بھارتیہ جنتا پارٹی نے بھی گاؤں گاؤں جا کر کسانوں کو زرعی قوانین کے فائدہ بتانے کا بیڑا اٹھایا ہے، تاہم اس سے پہلے سماجوادی پارٹی کے لوگ گاؤں گاؤں پہنچنے لگے ہیں۔ سماجوادی پارٹی کے رہنما پرمود تیاگی کا کہنا ہے کہ ہم نے اپنے تمام کارکنان کو گاؤں گاؤں گھوم کر اس قانون کی سچائی لوگوں کے سامنے ظاہر کرنے کو کہا ہے۔ یہ قانون کسان مخالف ہے اور ہم اس جدوجہد میں کسانوں کے ساتھ ہیں۔

منڈبھر گاؤں پہنچے راجیو بالیان نے کہا کہ وہ کسانوں کو بیدار کرنے گئے تھے لیکن کسان تو پہلے ہی ہم سے زیادہ جانتے ہیں۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ ان قوانین کی واپسی سے کم کوئی بات نہیں ہونی چاہیے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔