’منریگا کو ختم کرنے کے بعد کیا اب آر ٹی آئی کی باری ہے؟‘ ملکارجن کھڑگے کا حکومت سے سوال

اقتصادی جائزہ میں آر ٹی آئی قانون پر نظرثانی کی تجویز پر کھڑگے نے سخت اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ حکومت شفافیت کمزور کر رہی ہے اور سوال اٹھایا کہ منریگا کے بعد کیا اب آر ٹی آئی کو ختم کیا جائے گی؟

<div class="paragraphs"><p>کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے / تصویر آئی این سی</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

کانگریس کے صدر ملکارجن کھڑگے نے اقتصادی جائزہ میں حقِ اطلاعات قانون کے دوبارہ مطالعے کی وکالت پر سخت ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے جمعہ کو سوال اٹھایا کہ کیا حکومت منریگا کے بعد اب اس قانون کو بھی ختم کرنا چاہتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شفافیت کو کمزور کرنے کی منظم کوششیں کی جا رہی ہیں، جن کا مقصد عوامی نگرانی کو محدود کرنا ہے۔

پارلیمنٹ میں پیش کیے گئے سال 2025-26 کے اقتصادی جائزہ میں تقریباً دو دہائی پرانے آر ٹی آئی قانون پر نظرِ ثانی کی بات کہی گئی ہے تاکہ خفیہ رپورٹس اور مسودات کو عوام کے سامنے لانے سے استثنا حاصل ہو سکے۔ جائزہ میں یہ مؤقف بھی اختیار کیا گیا کہ آر ٹی آئی قانون کا مقصد کبھی بھی اسے غیر ضروری تجسس کا ذریعہ بنانا نہیں تھا اور نہ ہی باہر بیٹھ کر حکومت کے ہر چھوٹے کام میں مداخلت یا اسے کنٹرول کرنا مقصود تھا۔


کھڑگے نے سوشل میڈیا پر ایک بیان میں کہا کہ اقتصادی جائزہ میں معلومات روکنے کے لیے ممکنہ وزارتی سطح کے ویٹو کی تجویز دی گئی ہے اور یہ جانچنے کی بات کی گئی ہے کہ کیا نوکرشاہی کے عوامی خدمات سے متعلق ریکارڈ، تبادلے اور عملے کی رپورٹس کو عوامی نگرانی سے باہر رکھا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق یہ تجاویز شفافیت کی روح کے منافی ہیں۔

انہوں نے الزام لگایا کہ موجودہ حکومت نے آر ٹی آئی قانون کو مرحلہ وار کمزور کیا ہے۔ کھڑگے کے مطابق 2025 تک چھبیس ہزار سے زیادہ مقدمات زیرِ التوا ہیں، جب کہ 2019 میں قانون میں ترمیم کر کے اطلاعاتی کمشنروں کی مدتِ کار اور تنخواہوں پر حکومتی کنٹرول بڑھایا گیا، جس سے آزاد نگرانی متاثر ہوئی۔

کانگریس صدر نے ڈیجیٹل ڈیٹا تحفظ قانون 2023 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کی آڑ میں “عوامی مفاد” کے اصول کو کھوکھلا کیا گیا اور نجی معلومات کے تحفظ کو بدعنوانی چھپانے اور جانچ روکنے کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ دسمبر 2025 تک مرکزی اطلاعاتی کمیشن سربراہ کے بغیر کام کرتا رہا اور یہ اہم عہدہ متعدد مرتبہ خالی رکھا گیا۔

کھڑگے کے مطابق 2014 کے بعد سے سو سے زیادہ آر ٹی آئی کارکنوں کے قتل کے واقعات سامنے آئے، جس سے اختلافی آوازوں کو دبانے کا ماحول بنا۔ آخر میں انہوں نے دو ٹوک سوال کیا کہ اگر منریگا کو کمزور یا ختم کیا جا چکا ہے تو کیا اب آر ٹی آئی کی باری ہے؟