کشمیر: برف وباراں سے معمولات متاثر، فصلوں کو کافی نقصان

محکمہ موسمیات کے ایک ترجمان کے مطابق وادی کشمیر میں اگلے 24 گھنٹوں کے دوران موسمی صورتحال جوں کی توں رہنے کا امکان ہےـ

لالچوک سری نگر، تصویر یو این آئی
لالچوک سری نگر، تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

سری نگر: محکمہ موسمیات کی پیش گوئی کے عین مطابق وادی کشمیر کے میدانی علاقوں میں موسلا دھار بارشوں اور بالائی علاقوں میں درمیانی درجے کی برف باری کا سلسلہ جمعے کی شام سے ہی شروع ہوا جس سے معمولات زندگی متاثر ہو کر رہ گئے۔ متعلقہ محکمے کے ایک ترجمان کے مطابق وادی کشمیر میں اگلے 24 گھنٹوں کے دوران موسمی صورتحال جوں کی توں رہنے کا امکان ہے۔

انہوں نے کہا کہ وادی میں موسمی صورتحال 24 اکتوبر کی دوپہر تک جوں کی توں رہنے کی توقع ہے تاہم اس کے بعد موسم میں بہتری واقع ہوسکتی ہے اور 2 نومبر تک موسم خشک رہ سکتا ہے۔ ادھر وادی کشمیر کو ملک کے باقی حصوں کے ساتھ جوڑنے والی سری نگر- جموں قومی شاہراہ ہفتے کے روز نقل و حمل کے لئے بند رہی۔ ایک ٹریفک پولیس عہدیدار نے بتایا کہ موسلا دھار بارشوں کے باعث کئی مقامات پر مٹی کے تودے اور چٹانیں کھسکنے سے سری نگر- جموں قومی شاہراہ کو ہفتے کے روز نقل و حمل کے لئے بند رکھا گیا۔


وادی کے بالائی علاقوں بشمول مشہور سیاحتی مقامات گلمرگ، پہلگام، سونہ مرگ، یوسمرگ، دودھ پتھرہ وغیرہ میں درمیانی درجے کی برف باری ہوئی۔ ان سیاحتی مقامات پر موجود غیر مقامی سیاحوں کو برف باری سے لطف اندوز ہوتے ہوئے دیکھا گیا۔ ایک سیاح نے میڈیا کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ برف باری سے کشمیر کی خوبصورتی میں مزید چار چاند لگ جاتے ہیں اور یہ جنت کا نظارہ پیش کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم برف باری سے لطف اٹھا رہے ہیں اور اب کچھ اور دن یہاں گزاریں گے۔

متعلقہ محکمے کے مطابق سری نگر میں گزشتہ شام سے ہفتے کی صبح ساڑے آٹھ بجے تک 31.6 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی ہے۔ وادی کے مشہور سیاحتی مقام پہلگام میں 5.6 سینٹی میٹر برف جمع ہوئی ہے جبکہ 43.2 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی ہے۔ سرحدی ضلع کپوارہ میں 9.6 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی ہے جبکہ قصبہ قاضی گنڈ میں 58.4 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی ہے۔ وسطی اور جنوبی کشمیر کے بعض میدانی علاقوں میں بھی ہلکے درجے کی برف باری ہوئی ہے جس سے فصلوں خاص کر میوہ فصل کو کافی نقصان پہنچا ہے۔


جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیاں میں برف باری سے کئی سیب کے باغ تباہ ہوئے ہیں اور درخت پھل سمیت اکھڑ گئے ہیں۔ وسطی کشمیر کے ضلع بڈگام کے کئی دیہات میں جہاں درختوں سے ابھی سیب اتارے ہی جا رہے تھے جبکہ ابھی دھان فصل کی کٹائی کا کام بھی پایہ تکمیل کو نہیں پہنچا تھا۔

محکمہ موسمیات نے قریب ایک ہفتہ قبل ہی ایک ایڈوائزری جاری کی تھی جس میں کسانوں کو سیب اتارنے اور فصل کٹائی کا کام جلد ہی مکمل کرنے کی تاکید کی گئی تھی۔ وادی میں خراب موسمی حالات سے سردی میں نمایاں اضافہ درج ہوا ہے جس نے لوگوں کو موسم سرما میں پہنے جانے والے گرم لباس کو زیب تن کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ لوگوں نے روایتی لباس ’پھیرن‘ اور گرمی کے لئے روایتی ’کانگڑٰی‘ کا استعمال کرنا بھی شروع کر دیا ہے اور دفتروں اور دکانوں میں بھی گرمی کے لئے الیکٹرانک آلات کا استعمال کیا جا رہا ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔