خوفزدہ پاکستان کو طالبان کی یقین دہانی، پاکستان کے خلاف افغانستان سے کسی دہشت گردانہ سرگرمی کی اجازت نہیں

پاکستان۔افغانستان کی سرحد اب کاروباری سرگرمیوں کے لئے ہمیشہ دن رات کھلی رہیں گی اور ساتھ ہی افغان کارباریوں کی آمد پر انہیں ویزا بھی دستیاب کرایا جائے گا۔

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہاکہ طالبان نے اس بات کا یقین دلایا ہے کہ افغانستان کی سرزمین سے کسی بھی دہشت گرد تنظیم کو پاکستان کے خلاف دہشت گردانہ سرگرمیوں کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ قریشی نے کابل میں اپنے ایک روزہ دورہ کے بعد ایک پریس کانفرنس میں کہاکہ طالبان نے یہ واضح طورپر کہہ دیا ہے کہ نہ تو ممنوعہ تحریک طالبان پاکستان اور نہ ہی ممنوعہ بلوچستان لبریشن آرمی کو پاکستان کو نقصان پہنچانے کے لئے افغانستان کی زمین کا استعمال کرنے کی اجازت دی جائے گی۔

انہوں نے کہاکہ اس دورہ کا مقصد افغانستان کے لئے ایک مربوط علاقائی نقطہ نظر پیدا کرنا تھا۔مسٹر قریشی نے کہاکہ طالبان کو بتایا گیا کہ کس طرح سے پاکستان پوری دنیا سے افغانستان میں امدادی پروگراموں کے لئے درخواست کررہا ہوں اور بین الاقوامی برادری سے اپیل کی جارہی ہے کہ اس ملک کی معیشت کو تباہ ہونے سے بچائے۔


پریس کانفرنس میں وزیر خارجہ نے افغانستان کو پانچ بلین پاکستانی روپے (28ملین امریکی ڈالر سے زیادہ) رقم کی انسانی مدد فراہم کئے جانے کی بات بھی کہی۔

مختلف وزارتوں اور تنظیموں کے نمائندوں پر مشتمل ایک سطحی وفد وزیر خارجہ کے دورہ افغانستان پر ان کے ہمراہ تھا جس نے دونوں ممالک کے مابین تجارت اور سفر کے امور کے لئے حل کے لئے مختلف منصوبوں اور اقدامات پر بات چیت کی۔


قریشی نے کہاکہ پاکستان۔افغانستان کی سرحد اب کاروباری سرگرمیوں کے لئے ہمیشہ دن رات کھلی رہیں گی اور اس کے ساتھ ہی افغان کارباریوں کی آمد پر انہیں ویزا بھی دستیاب کرایا جائے گا۔ اس کے علاوہ صحت خدمت سے متعلق امور یا کسی ہنگامی حالت کے لئے بھی مسافروں کو آمد پر ویزا دیا جائے گا۔ انہیں اب اس کے لئے پہلے کی طرح طویل طریقہ کار پر عمل نہیں کرنا پڑے گا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔