کرناٹک: آن لائن گیمنگ پر پابندی کے خلاف ’اے آئی جی ایف‘ پہنچا ہائی کورٹ

اے آئی جی ایف کے چیف ایگزیکٹیو افسر کا کہنا ہے کہ ’’آن لائن گیمنگ پر پابندی کا فیصلہ گھریلو آن لائن گیمنگ صنعت کو نقصان پہنچائے گا اور ہم نے یہ کارروائی اس کے مفادات کے تحفظ کے لیے کی ہے۔‘‘

تصویر آئی اے این ایس
تصویر آئی اے این ایس
user

تنویر

اے آئی جی ایف یعنی آل انڈیا گیمنگ فیڈریشن، اسکل بیسڈ آن لائن گیمنگ انڈسٹری اور تین آن لائن گیمنگ کمپنیوں نے کرناٹک ہائی کورٹ میں آن لائن گیمنگ پر پابندی عائد کیے جانے کو چیلنج پیش کرتے ہوئے ایک عرضی داخل کی ہے۔ ان کمپنیوں کے ذریعہ کرناٹک پولیس (ترمیم) ایکٹ 2021 کے آئینی جواز کو چیلنج دیتے ہوئے عرضی داخل کی ہے۔ ان کمپنیوں میں ہیڈ ڈیجیٹل ورکس پرائیویٹ لمیٹڈ (A23)، پلے گیمز 24x7 پرائیویٹ لمیٹڈ (رمی سرکل اور مائی الیون سرکل) اور گیمس کرافٹ ٹیکنالوجی پرائیویٹ لمیٹڈ (رمی کلچر اور گیمزی) شامل ہیں۔

ہندی نیوز پورٹل ’اے بی پی‘ پر اس سلسلے میں ایک رپورٹ شائع ہوئی ہے جس میں بتایا گیا کہ ہے کرناٹک ہائی کورٹ میں فی الحال دسہرا کی چھٹی چل رہی ہے اور 16 اکتوبر تک کورٹ بند رہے گا۔ اس لیے عرضی کی سماعت 16 اکتوبر تک ہونے کی کوئی امید نہیں ہے۔ اے آئی جی ایف کے چیف ایگزیکٹیو افسر رولینڈ لینڈرس نے اس سلسلے میں ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’ہمیں حکومت کے ذریعہ غیر ملکی جوا کمپنیوں سے نمٹنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہے، درحقیقت ہم نے ایک ادارہ کی شکل میں اس کے خلاف ایک مضبوط رخ اختیار کیا ہے اور ایسا کرنا جاری رکھیں گے۔ عرضی گھریلو آن لائن گیمنگ صنعت کو نقصان پہنچائے گی اور ہم نے یہ کارروائی اس کے مفادات کے تحفظ کے لیے کی ہے۔‘‘


یہ عرضیاں مدراس ہائی کورٹ کے ایک تاریخی فیصلے کے کچھ ہی مہینوں بعد آئی ہیں، جس میں اسی طرح کے تمل ناڈو گیمنگ اور پولیس ایکٹ (ترمیم) 2021 کو رد کر دیا گیا تھا، جس میں آن لائن گیم پر پابندی لگا دی گئی تھی، جو داؤ پر اصلی پیسے کے ساتھ کھیلے گئے تھے۔ ریاست نے ہائی کورٹ کو جانکاری دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس نے پابندی اس لیے عائد کی تھی کیونکہ آن لائن سٹہ بازی کے کھیل کی وجہ سے کئی خودکشیاں ہوئی ہیں۔ ریاست نے یہ بھی دلیل دی کہ رمّی اور پوکر جیسے کھیل کھیلنا عادت بن جاتی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔