لکھیم پور کھیری تشدد: کسان مورچہ کا ریل روکو تحریک چلانے کا اعلان، لکھنؤ میں ہوگی مہاپنچایت

سنیوکت کسان مورچہ نے کہا کہ 12 اکتوبر کو ملک بھر کے کسان لکھیم پور کھیری پہنچیں گے۔ اس کے ساتھ ہی کسان لکھنؤ میں مہاپنچایت بھی کریں گے۔

سنیوکت کسان مورچہ کی پریس کانفرنس/ یو این آئی
سنیوکت کسان مورچہ کی پریس کانفرنس/ یو این آئی
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: لکھیم پور کھیری میں ہوئے تشدد میں کسانوں کی موت کا معاملہ لگاتار گرما رہا ہے۔ کسان تنظیموں کے لیڈران نے اس معاملہ پر پریس کانفرنس کی اور آگے کی حکمت عملی کے بارے میں اطلاع دی۔

سنیوکت کسان مورچہ نے مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ اجے مشرا اور ان کے بیٹے آشیش مشرا کی گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔ ساتھ ہی اجے مشرا کو کابینہ سے ہٹانے کا بھی مطالبہ کیا۔ سنیوکت کسان مورچہ نے کہا کہ 12 اکتوبر کو ملک بھر کے کسان لکھیم پور کھیری پہنچیں گے۔ اس کے ساتھ ہی کسان لکھنؤ میں مہاپنچایت بھی کریں گے۔

یوگیندر یادو نے کہا کہ پہلی تقریب کے تحت 12 تاریخ کو شہید ہونے والے کسانوں اور صحافی کے لئے ہم لکھیم پور کے تکونیا میں ’آخری ارداس‘ کریں گے۔ ملک بھر کے کسان 12 تاریخ کو لکھیم پور پہنچیں گے۔ لکھیم پور کا واقعہ جلیانوالا باغ سے کم نہیں ہے۔ ہماری ملک کی تمام سماجی تنظیموں سے گزارش ہے کہ وہ اپنے شہروں میں کینڈل مارچ نکالیں۔ ہم پورے ملک کے شہریوں سے اپیل کرتے ہیں کہ شام 8 بجے اپنے گھروں پر موم بتی جلائیں۔

یوگیندر یادو نے کہا کہ 12 تاریخ کو لکھیم پور سے ہی کسانوں کی استھی کلش یاترا یوپی میں شروع ہوگی۔ کسانوں کی استھیاں لے کر کسان ہر ریاست میں جائیں گے اور وہاں کی ندیوں میں وسرجن کریں گے۔ 15 اکتوبر کو دسہرہ ہے، تمام کسان وزیر اعظم مودی اور امت شاہ کا پتلا نذر آتش کریں گے۔ 18 اکتوبر کو ریل روکیں گے، جبکہ 26 اکتوبر کو لکھنؤ میں ایک مہاپنچایت منعقد کی جائے گی۔

کسان لیڈر ڈاکٹر درشن پال نے ہفتہ کے روز کہا کہ اس واقعہ میں کسان شہید ہوئے ہیں اور کسان مورچہ آخر تک لڑائی لڑے گا۔ انہوں نے وزیر مملکت پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے دہشت کا ماحول بنانے کی کوشش کی۔ نیز لکھیم پور میں پنجابی کسانوں کو خطرہ لاحق ہے۔

کسان لیڈر نے کہا کہ 25 ستمبر کو اجے مشرا نے تقریر کی اور کسانوں کے خلاف کافی باتیں کیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ وہ لوگوں کو یوپی سے نکال پھینکیں گے اور پھر 3 اکتوبر کو اجے مشرا نے اس سازش کو عملی جامہ پہنایا۔ اجے مشرا کے بیٹے نے کسانوں پر جیپ سے حملہ کیا اور اجے مشرا نے دہشت کا ماحول بنانے کی کوشش کی۔

وہیں، کسان لیڈر جوگندر اگراہاں نے کہا کہ ہماری تحریک پوری طرح پر امن چل رہی ہے۔ ہمیں خالصتانی کہا گیا۔ آتنکوادی کہا گیا لیکن 3 مہینے سے بی جے پی حکومت تشدد پر اتر آئی ہے۔ کھٹر کا بیان سنیے، کرنال میں کسانوں کی پٹائی کی، لیکن ہم تشدد نہیں کریں گے۔ ہم برداشت کریں گے اور جدوجہد جاری رکھیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ اجے مشرا کو وزیر کے عہدے سے ہٹایا جائے۔ آشیش مشرا سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے، ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ آشیش مشرا کو گرفتار کیا جائے، دونوں باپ-بیٹے کو گرفتار کیا جائے۔ مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ اور ان کے بیٹے نے سازش رچی ہے۔ سنیوکت کسان مورچہ مطالبہ کرتا ہے کہ دونوں کو گرفتار کیا جائے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔