کرنال: کسانوں سے خوفزدہ کھٹر حکومت کے ایک فیصلے نے عوام کو کیا پریشان

منی سکریٹریٹ کے باہر کسانوں کے مظاہرہ کو دیکھتے ہوئے علاقے میں انٹرنیٹ خدمات پر پابندی ہے، اس وجہ سے مقامی باشندے، دکاندار، تاجر وغیرہ کے لیے کئی طرح کے مسائل پیدا ہو گئے ہیں۔

تصویر آئی اے این ایس
تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

کرنال: کرنال منی سکریٹریٹ کے باہر کسانوں کے مظاہرہ کو دیکھتے ہوئے کھٹر حکومت نے علاقے میں انٹرنیٹ خدمات پر پابندی لگا دی ہے۔ اس وجہ سے مقامی باشندے، دکاندار، تاجر اور دیگر لوگوں کے سامنے کئی طرح کے مسائل پیدا ہو گئے ہیں۔ نہ کوئی موبائل پیغام مل پا رہا ہے، اور نہ ہی پیسوں کا لین دین ہو رہا ہے۔ دراصل ہریانہ کے 5 اضلاع کرنال، جیند، پانی پت، کیتھل اور کروکشیتر میں انٹرنیٹ خدمات پر روک لگا دی گئی تھی، اور پھر بعد میں 4 اضلاع میں انٹرنیٹ خدمات بحال کر دی گئی، لیکن کرنال میں اب بھی پابندی برقرار ہے۔

مقامی دکانداروں کے مطابق اس وقت ہر کوئی آن لائن پیمنٹ کرتا ہے، 50 فیصد گاہک کے پاس نقدی نہیں ہے۔ گاہک لوٹ جاتے ہیں۔ جنھیں ہم جانتے ہیں انھیں تو ادھاری پر سامان دے دیتے ہیں، لیکن انجان لوگوں کو ادھار کیسے دیں؟ حالانکہ جن دفاتر اور گھروں میں وائی فائی لگی ہوئی ہے وہی انٹرنیٹ چلانے میں اہل ہیں۔ اس کے علاوہ ہر کوئی بس اپنے فون کو ٹکٹکی لگائے دیکھ رہا ہے۔


منی سکریٹریٹ کے باہر بیٹھنے والے ٹائپسٹ بھی انٹرنیٹ بند ہونے کے سبب پریشان ہیں۔ سرکاری دستاویز تیار کرانے والے عام شہریوں نے گزشتہ تین دن سے آنا ہی بند کر دیا ہے۔ سرکاری دفتر میں لوگوں کے کم آنے سے ان کے کاروبار پر بھی اثر پڑ رہا ہے۔ دوسری جانب ڈرائیونگ لائسنس بنانے والے، آن لائن رجسٹری کرانے والے بھی بے حد مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔

سکریٹریٹ کے باہر غیر مستقل دفتر ڈالے بیٹھے لکھوندر نے بتایا کہ ’’میرا سارا کام آن لائن کا ہے، انٹرنیٹ کے بغیر کچھ بھی کام نہیں ہو سکتا۔ گزشتہ تین دنوں میں دو دن چھٹی کے نکل گئے ہیں، چونکہ انٹرنیٹ نہیں ہے تو آ کر بھی کیا کریں گے۔‘‘ مقامی باشندہ پنچال نے بتایا کہ گھر کے روزمرہ کے کام رکے ہوئے ہیں، نہ کوئی موبائل پیغام جا پا رہا ہے اور نہ ہی کوئی پیغام آ رہا ہے۔ اس کے علاوہ نہ کوئی جانکاری مل پا رہی ہے کہ کیا کرنا ہے، کیا نہیں۔


حالانکہ کسان لیڈر گرنام سنگھ چڈھونی نے انٹرنیٹ بند ہونے پر خبر رساں ادارہ آئی اے این ایس سے کہا کہ ’’انٹرنیٹ بند کرنا لوگوں کی زبان پر تالا لگانے کا ایک قانون ہے۔ ہر کسی کو بولنے کی آزادی ہے، سوشل میڈیا ہماری بات صحیح طریقے سے دکھاتا ہے، اس کو بند نہیں کرنا چاہیے اور انٹرنیٹ کو جلد چالو کر دینا چاہیے۔‘‘

کرنال شہر میں ٹیکسی ڈرائیور جگجندر سنگھ نے بتایا کہ انٹرنیٹ بند ہونے کے سبب کوئی بکنگ نہیں لے پا رہے۔ اگر کسی کو کہیں جانا ہے اور اس کے پاس ہمارا نمبر نہیں ہے تو وہ انٹرنیٹ کے ذریعہ ہی ڈھونڈتا ہے۔ گزشتہ دو تین دنوں میں جو مسافر آنے چاہیے تھے، اتنے نہیں آ سکے۔


خبروں کے مطابق سکریٹریٹ کے اندر تقریباً 40 محکمے ہیں۔ سکریٹریٹ کے آس پاس میں ہی تقریباً 10 بیمہ کمپنیاں، 15 سے زیادہ بینک اور تقریباً 40 نجی دفاتر موجود ہیں۔ اس جگہ ہر دن ہزاروں کی تعداد میں لوگ کام کرنے پہنچتے ہیں۔ دراصل 28 اگست کو کرنال میں وزیر اعلیٰ کی ایک میٹنگ ہونے کے سبب کسان اپنا احتجاج درج کرانے کے لیے آگے بڑھے تو پولیس کے ساتھ تصادم ہو گیا۔ تصادم میں کئی کسان زخمی ہوئے، وہیں ایک کسان کی موت بھی ہو گئی۔ اس کے علاوہ ڈیوٹی مجسٹریٹ آیوش سنہا کی کسانوں کے سر پھوڑنے کے بیان پر مبنی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد کسانوں میں زبردست غصہ دیکھنے کو ملا۔ معاملے نے اس قدر طول پکڑا کہ کسانوں نے مہاپنچایت کی اور منی سکریٹریٹ کا گھیراؤ کر دیا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔