پیگاسس معاملے کی جانچ کے لئے صحافیوں نے سپریم کورٹ کا رخ کیا

دائر عرضی میں کہا گیا ہے کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی سیفٹی لیباریٹری میں متاثرین کے متعدد موبائل فون کے فارنسک تجزیہ میں پیگاسس کی جانب سے جاسوسی کئے جانے کی تصدیق کی گئی ہے۔

سپریم کورٹ کی فائل تصویر یو این آئی
سپریم کورٹ کی فائل تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

نئی دہلی: سینئر صحافی این رام اور ششی کمار نے پیگاسس جاسوسی معاملے کی آزادانہ جانچ کرانے کی سپریم کورٹ سے فریاد کی ہے۔ شری رام، شری کمار اور کچھ دیگر صحافیوں نے عدالت سے پیگاسس معاملے کی موجودہ جج یا سبکدوش جج کی صدارت میں جانچ کرانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کے لیڈروں، سماجی کارکنان، صحافیوں اور جج سمیت بڑی تعداد میں اہم شخصیات کی جاسوسی کی گئی ہے۔

اس سلسلے میں دائر عرضی میں کہا گیا ہے کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی سیفٹی لیباریٹری میں متاثرین کے متعدد موبائل فون کے فارنسک تجزیہ میں پیگاسس کی جانب سے جاسوسی کئے جانے کی تصدیق کی گئی ہے۔ اس معاملے کی جانچ کے لئے یہ تیسری عرضی داخل کی گئی ہے۔


عرضی میں کہا گیا ہے کہ ملٹری۔ گریڈ کے اسپائی ویئر کے ذریعہ سے کی گئی اس جاسوسی سے آزاد اداروں پر حملہ کیا گیا ہے۔ یہ ہماری اہم جمہوری بنیاد کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش ہے۔ اس سے متعدد بنیادی حقوق کو کم کیا گیا ہے۔

عرضی میں مانگ کی گئی کہ وہ مرکزی حکومت کو ہدایت دے کہ وہ یہ خلاصہ کریں کہ کیا حکومت یا اس کی کسی دیگر ایجنسی نے بالواسطہ یا بلاواسطہ طور ر پیگاسس سے لائسنس لیا تھا اور اس کے اسپائر ویئر کا جاسوسی کے لئے کسی بھی طریقے سے استعمال کیا گیا ہے۔


عرضی میں کہا گیا ہے کہ جاسوسی یا فون ٹیپنگ صرف عوام کی حفاظت اور عوامی مفاد سے متلق معاملوں کے تعلق سے ہنگامی صورت میں ہی جائز ٹھرائی جاسکتی ہے۔ موجودہ جاسوسی معاملے میں اس طرح کی کوئی لازمی صورتحال کی جانکاری نہیں ہے۔ اس طرح کی جاسوسی پوری طرح سے غیر قانونی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔