جیتن رام مانجھی کے ایک ٹوئٹ نے بہار کی سیاست میں گرمی پیدا کر دی

ہندوستانی عوام مورچہ کے سربراہ جیتن ران مانجھی نے اپنے ایک ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ ’’ریاست کی ترقی کے لیے ہم کسی سے بھی ہاتھ ملانے کو تیار ہیں۔‘‘

جیتن رام مانجھی، تصویر آئی اے این ایس
جیتن رام مانجھی، تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

بہار میں فی الحال این ڈی اے کی حکومت ہے، لیکن یہ حکومت کب تک رہے گی یہ کہنا ذرا مشکل ہے۔ ایسا اس لیے کیونکہ حکومت میں شامل پارٹیاں ایک دوسرے پر حملہ آور ہونے سے کوئی پرہیز نہیں کر رہیں۔ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ بہار این ڈی اے ان دنوں اتھل پتھل کے دور سے گزر رہا ہے۔ بی جے پی، جنتا دل یو، ہندوستانی عوام مورچہ (ہم) اور وی آئی پی سب ایک دوسرے کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ بی جے پی اور جنتا دل یو میں تو بیان بازی تھمنے کا نام نہیں لے رہی ہے۔ اس درمیان ’ہم‘ پارٹی کے سربراہ جیتن رام مانجھی کے ایک ٹوئٹ نے بہار کی سیاست میں گرمی پیدا کر دی ہے۔

دراصل مانجھی نے منگل کو ایک ٹوئٹ کیا ہے جس میں انھوں نے لکھا ہے ’’ریاست کی ترقی کے نام پر تو علیحدگی پسندوں کے ساتھ بھی 50-50 کی حکومتیں بنیں۔ ویسے میرا ماننا ہے کہ بہار کی ترقی، دلت، پسماندہ، اقلیتوں غریبوں کے وقار کے لیے اگر ہمیں کسی سے بھی ہاتھ ملانا ہو تو ہمیں تیار رہنا چاہیے، چاہے وہ کوئی ہو... کوئی بھی...۔‘‘


مانجھی کے اس ٹوئٹ کے سیاسی ماہرین معنیٰ تلاش کرنے میں مصروف ہو گئے ہیں۔ اسے حال کے اس معاملہ سے بھی جوڑ کر دیکھا جا رہا ہے جس میں بی جے پی رکن پارلیمنٹ چھیدی پاسوان نے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ نتیش کمار وزیر اعلیٰ بننے کے لیے داؤد ابراہیم سے بھی ہاتھ ملا سکتے ہیں۔ مانا جا رہا ہے کہ مانجھی کے نشانے پر بی جے پی ہے جس نے جموں و کشمیر میں پی ڈی پی کے ساتھ مل کر اتحاد کی حکومت بنائی تھی۔

دوسری طرف کئی لوگ اس ٹوئٹ کو بی جے پی سے الگ ایک نئے اتحاد کی طرف اشارہ تصور کر رہے ہیں۔ ویسے بھی بہار کو خصوصی ریاست کا درجہ دینے کا معاملہ ہو یا پھر ذات پر مبنی مردم شماری کا معاملہ، این ڈی اے کے معاونین ایک دوسرے پر حملہ کرنے میں مصروف ہیں۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔