بہار انتخاب: باہری امیدوار کے خلاف جے ڈی یو میں بغاوت، مظفر پور کے سبھی لیڈران و کارکنان کا اجتماعی استعفیٰ

بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کو آج اس وقت زبردست جھٹکا لگا جب مظفر پور کی سکرا اسمبلی سیٹ سے باہری امیدوار کھڑا کیے جانے کے خلاف جنتا دل یو کے سبھی مقامی لیڈروں و کارکنان نے اجتماعی استعفیٰ دے دیا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

تنویر

بہار اسمبلی انتخاب میں روزانہ نئے سیاسی جوڑ توڑ دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ اقتدار مخالف لہر کا سامنا کر رہی وزیر اعلیٰ نتیش کما رکی جنتا دل یو (جے ڈی یو) کو زبردست جھٹکا لگا ہے۔ مظفر پور میں پارٹی کے سبھی مقامی لیڈران اور کارکنان نے ایک ساتھ استعفیٰ دے دیا ہے۔ یہ لیڈران و کارکنان مظفر پور ضلع کی سکرا سیٹ سے باہری امیدوار اشوک کمار چودھری کو ٹکٹ دیے جانے کے خلاف ہیں۔ اشوک چودھری گزشتہ الیکشن کانتی سیٹ سے بطور آزاد امیدوار جیتے تھے۔

جنتا دل یو کارکنان اس بات سے ناراض ہیں کہ پارٹی کارکنان لگاتار محنت کر پارٹی کو مضبوط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن زمینی لیڈروں و کارکنوں کو نظر انداز کر باہری امیدوار اشوک چودھری کو ٹکٹ دےد یا گیا۔ چودھری کو امیدوار بنائے جانے کے خلاف مقامی لیڈروں و کارکنوں نے احتجاجی مظاہرہ بھی کیا تھا لیکن پارٹی کی اعلیٰ قیادت نے اسے نظر انداز کر دیا۔ اس سے لیڈران و کارکنان مزید ناراض ہوئے اور اجتماعی استعفیٰ دینے کا اعلان کر دیا۔

مظفر پور میں جے ڈی یو ضلع صدر ہری اوم کشواہا کا کہنا ہے کہ "پارٹی قیادت نے جے ڈی یو کارکنان کا حوصلہ توڑ دیا ہے اور باہری امیدوار کھڑا کیا ہے۔ اسی کے خلاف سبھی نے اجتماعی استعفیٰ دے دیا ہے۔" کشواہا نے الزام لگایا کہ چودھری کے پاس پیسہ اور طاقت دونوں ہے، اور اعلیٰ قیادت کو بس یہی دکھائی دے رہا ہے۔ ان کے مطابق پارٹی کے اس فیصلے سے کارکنوں کی بے عزتی ہوئی ہے۔

کشواہا نے اعلان کیا ہے کہ اب اس سیٹ پر جنتا دل یو کارکنان مقامی اور اہل امیدوار کی مدد کریں گے اور اسے انتخاب میں کامیاب بنائیں گے۔ انھوں نے کہا کہ ہر حال میں جنتا دل یو امیدوار کو شکست دیں گے۔ غور طلب ہے کہ بہار کی 243 اسمبلی سیٹوں والی اسمبلی کے لیے 28 اکتوبر، 3 نومبر اور 7 نومبر کو ووٹنگ ہونی ہے۔ ووٹوں کی گنتی 10 نومبر کو ہوگی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


next