کلبرگی میئر الیکشن: بی جے پی کو ملی بُری خبر، کانگریس کو ملا جے ڈی ایس کا ساتھ

کرناٹک کے کلبرگی میونسپل کارپوریشن الیکشن میں اپوزیشن کانگریس 55 رکنی ایوان میں 27 نشستیں جیت کر سب سے بڑی پارٹی بن گئی ہے، بی جے پی کو 23 اور جے ڈی ایس کو 4 سیٹیں ملی ہیں۔

تصویر آئی اے این ایس
تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

برسراقتدار بی جے پی کو جھٹکا دیتے ہوئے جے ڈی ایس نے کرناٹک میں کلبرگی میونسپل کارپوریشن کے لیے اپنے میئر امیدوار کو چننے کے لیے کانگریس کے ساتھ جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ جیسے جیسے چیزیں آگے بڑھ رہی ہیں، جے ڈی ایس نے اپنے منتخب اراکین کو بنگلورو بلا لیا ہے اور انھیں فی الحال کے لیے ایک ریسورٹ میں منتقل کر دیا ہے۔

کلبرگی میونسپل کارپوریشن الیکشن میں اپوزیشن کانگریس نے 55 رکنی ایوان میں 27 نشستیں جیت کر سب سے بڑی پارٹی ہونے کا سہرا حاصل کر لیا ہے۔ بی جے پی کو پہلی بار 23 سیٹیں ملی ہیں، جب کہ جے ڈی ایس کو 4 سیٹیں حاصل ہوئی ہیں۔ اس الیکشن میں جے ڈی ایس کنگ میکر بن کر ابھری ہے۔ الیکشن میں ایک آزاد امیدوار بھی جیتا ہے۔ یہ امکان ظاہر کیا جا رہا تھا کہ جے ڈی ایس کی مدد سے بی جے پی بہ آسانی برسراقتدار ہو جائے گی، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ پارٹی ذرائع نے کہا کہ چیزیں بدل گئی ہیں، کیونکہ راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر ملکارجن کھڑگے نے ذاتی طور سے جے ڈی ایس سربراہ اور سابق وزیر اعظم ایچ ڈی دیوگوڑا سے بات کی۔


ذرائع کا کہنا ہے کہ جے ڈی ایس نے پیر کے روز پارٹی اراکین اسمبلی کی میٹنگ طلب کی ہے۔ میٹنگ کے بعد کانگریس کے ساتھ جانے پر فیصلہ کا اعلان کیا جائے گا۔ کانگریس کے ساتھ جانے کے جے ڈی ایس کے فیصلے نے اہمیت حاصل کر لی ہے اور پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ 2023 میں آئندہ اسمبلی انتخاب کے لیے کرناٹک کی علاقائی پارٹی کے کانگریس کے ساتھ اتحاد کے لیے بہتر ماحول سازگار بنائے گا۔

دیوگوڑا اور کماراسوامی نے کہا ہے کہ وہ عوام میں نمائندوں کی خواہش کے مطابق جائیں گے۔ دیوگوڑا نے تذکرہ کیا ہے کہ ملکارجن کھڑگے اور وزیر اعلیٰ بسوراج بومئی دونوں نے ان سے جے ڈی ایس کی حمایت طلب کی ہے۔ برسراقتدار بی جے پی رکن پارلیمنٹ امیش جادھو پہلے ہی اعلان کر چکے ہیں کہ بی جے پی اپنے میئر امیدوار کا انتخاب کرے گی۔ کلبرگی کی قیدت سنبھالنا کھڑگے اور بومئی کے درمیان وقار کا ایشو بن گیا ہے۔ قومی پارٹیوں بی جے پی اور کانگریس کے ذریعہ اغوا کے خوف سے جے ڈی ایس نے اپنے منتخب اراکین کو بنگلورو بلایا اور انھیں ایک ریسورٹ میں منتقل کر دیا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔