کرنال: کسانوں اور انتظامیہ میں صلح! لاٹھی چارج کی جانچ عدالت کی نگرانی میں، متنازعہ ایس ڈی ایم چھٹی پر

کسانوں اور انتظامیہ کے درمیان اتفاق رائے ہونے کے بعد گرنام سنگھ چڈھونی اور اے سی پی دیوندر سنگھ نے کہا کہ جانچ کمیٹی ایک مہینے کے اندر اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔

کسان مہا پنچایت
کسان مہا پنچایت
user

قومی آوازبیورو

کرنال: ہریانہ کے کرنال شہر میں گزشتہ دنوں کسانوں پر ہونے والے لاٹھی چارج کے بعد تحریک چلا رہے کسانوں اور انتظامیہ کے مابین صلح ہو گئی ہے۔ لاٹھی چارج کی جانچ اب عدالت کے ذریعے کی جائے گی۔ عام رائے سے فیصلہ لیا گیا کہ 28 اگست کے لاٹھی چارج کے واقعہ کی عدالتی جانچ سابق جج کریں گے، جبکہ لاٹھی چارج کا حکم دینے والے ایس ڈی ایم آیوش سنہا جانچ پوری ہونے تک مہینہ بھر چھٹی پر رہیں گے۔

کسانوں اور انتظامیہ کے درمیان اتفاق رائے ہونے کے بعد گرنام سنگھ چڈھونی اور اے سی پی دیوندر سنگھ نے کہا کہ جانچ کمیٹی ایک مہینے کے اندر اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔ یہ بھی فیصلہ لیا گیا کہ جس کسان کی موت واقع ہوئی ہے ان کے کنبہ کے دو افراد کو سرکاری نوکری دی جائے گی۔ تاہم، مفاہمت کے تحت کسان لیڈران نے ایس ڈی ایم آیوش سنہا پر ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ واپس لے لیا ہے۔


انتظامیہ سے مذاکرات کے لیے کسانوں کی 14 رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی۔ کسان 28 اگست کو ہونے والے لاٹھی چارج کے سلسلے میں کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے تین دن تک کرنال ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر کے باہر دھرنا دے رہے تھے۔ کسانوں کا احتجاج ختم کرنے کے لیے انتظامیہ نے جمعہ کے روز کسان رہنماؤں کے ساتھ طویل مذاکرات کیے۔ کسان رہنماؤں اور انتظامیہ کے درمیان جمعہ کے روز چار گھنٹے تک جاری رہنے والی ملاقات مثبت رہی۔

دو دن پہلے ہریانہ کے وزیر داخلہ انل وج نے بھی کہا تھا کہ 28 اگست کو کسانوں پر پولیس لاٹھی چارج اور سول سروس آفیسر آیوش سنہا کے 'کسانوں کے سر توڑنے' تبصرہ کی تحقیقات کی جائے گی۔ انل وج نے کہا تھا، ’’ہم کرنال کے واقعہ کی تحقیقات کریں گے... نہ صرف آیوش سنہا۔ ہم تفتیش کے بغیر افسران کو سزا نہیں دے سکتے۔ انہوں نے یہ بھی کہا، ’’اگر کسان رہنما قصوروار پائے گئے تو ہم ان کے خلاف بھی کارروائی کریں گے۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔