جموں و کشمیر: کپوارہ میں فوجی جوان کی مبینہ خود کشی

سرکاری ذرائع نے بتایا کہ گرچہ مذکورہ جوان کو فوجی اسپتال سری نگر پہنچایا گیا لیکن وہ زخموں کی تاب نہ لا کر دم توڑ گیا۔ متوفی فوجی جوان کی شناخت حوالدار شندے سندیپ ارجن کے بطور ہوئی ہے۔

خودکشی، تصویر آئی اے این ایس
خودکشی، تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

سری نگر: شمالی کشمیر کے ضلع کپوارہ میں پیر کی علی الصبح ایک فوجی جوان نے مبینہ طور پر اپنی ہی سروس رائفل سے اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ کپوارہ کے درنگ یاری چوکی بل میں تعینات ایک فوجی جوان نے پیر کی علی الصبح قریب ساڑھے چار بجے اپنی ہی سروس رائفل سے اپنے آپ کو ہی نشانہ بنا لیا۔

انہوں نے کہا کہ گرچہ مذکورہ جوان کو فوجی اسپتال سری نگر پہنچایا گیا لیکن وہ زخموں کی تاب نہ لا کر دم توڑ گیا۔ متوفی فوجی جوان کی شناخت حوالدار شندے سندیپ ارجن کے بطور ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس نے اس ضمن میں ایک کیس درج کرکے تحقیقات شرووع کی ہیں۔ بتادیں کہ دو روز قبل یعنی گیارہ دسمبر کی شام کو جموں وکشمیر کے ضلع رام بن میں ایک فوجی افسر نے اپنی ہی سروس رائفل سے اپنے آپ کو ہی نشانہ بنا کر اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا تھا۔


یہاں پر یہ بات قابل ذکر ہے کہ جموں و کشمیر کے حالات پر گہری نظر رکھنے والے مبصرین کا کہنا ہے کہ سیکورٹی فورسز اہلکاروں میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے رجحان کی وجہ سخت ڈیوٹی، اپنے عزیز و اقارب سے دوری اور گھریلو و ذاتی پریشانیاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ حکومت نے سیکورٹی اہلکاروں کے لئے یوگا اور دیگر نفسیاتی ورزشوں کو لازمی قرار دیا ہے لیکن باوجود اس کے جموں و کشمیر میں جوانوں کی جانب سے خودکشی کے واقعات گھٹنے کی بجائے بڑھ رہے ہیں۔

سرکاری اعداد وشمار کے مطابق سال 2010 سے 2019 تک ملک میں 1113 فوجی اہلکاروں کی خودکشی کے 1113 مشتبہ واقعات درج کیے گئے۔ اگرچہ سرکاری اعداد و شمار میں کشمیر میں خودکشی کرنے والے سیکورٹی اہلکاروں کی تفصیلات الگ سے نہیں دی گئیں، تاہم سمجھا جا رہا ہے کہ سب سے زیادہ معاملات یہیں درج ہوئے ہوں گے۔


وزیر مملکت برائے دفاعی امور شریپد نائیک نے گذشتہ برس دسمبر میں لوک سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں کہا کہ خودکشی کے ان 1113 معاملوں میں سے فوج میں 891، بھارتی فضائیہ میں 182 اور بحری فوج میں 40 اہلکاروں نے یہ انتہائی قدم اٹھایا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔