خواتین ریزرویشن محض بہانہ، اصل ایجنڈا حدبندی، مودی-شاہ کی جوڑی کا طریقۂ کار خطرناک: جے رام رمیش

جے رام رمیش نے لوک سبھا میں پیش کئے جا رہے تین بلوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ خواتین ریزرویشن محض بہانہ ہے، اصل مقصد حدبندی کے ذریعے سیاسی توازن بدلنا ہے

کانگریس کے سینئر لیڈر جے رام رمیش / آئی اے این ایس
i
user

قومی آواز بیورو

نئی دہلی: کانگریس کے سینئر رہنما جے رام رمیش نے لوک سبھا میں پیش کیے جانے والے تین اہم بلوں پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی اصل بنیاد خواتین ریزرویشن نہیں بلکہ حدبندی ہے۔ اپنی تازہ ایکس پوسٹ میں انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت ان بلوں کو خواتین ریزرویشن کے نام پر پیش کر رہی ہے لیکن ان کا بنیادی مقصد سیاسی نقشے کو اپنے حق میں تبدیل کرنا ہے۔

جے رام رمیش نے کہا کہ ملک بھر میں حدبندی کی تجاویز پر سنگین خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں، خاص طور پر اس بات پر کہ یہ عمل ان ریاستوں کو فائدہ پہنچا سکتا ہے جہاں اس وقت بی جے پی مضبوط پوزیشن میں ہے۔ ان کے مطابق اس سے کئی ریاستوں کی لوک سبھا میں نسبتی طاقت کم ہو جائے گی، جو جمہوری توازن کے لیے نقصان دہ ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ آسام اور جموں و کشمیر میں حدبندی کے سابقہ عمل کی مثالیں اس بات کو ظاہر کرتی ہیں کہ حکومت کس طرح اس عمل کو اپنے سیاسی فائدے کے لیے استعمال کرتی رہی ہے۔ ان کے الفاظ میں ان بلوں کا اصل مقصد شرارتی، مواد گمراہ کن اور اس کے نتائج نہایت سنگین ہو سکتے ہیں، اس لیے انہیں موجودہ شکل میں مکمل طور پر مسترد کیا جانا چاہیے۔


جے رام رمیش نے واضح کیا کہ حزب اختلاف کا موقف سادہ اور واضح ہے۔ ان کے مطابق لوک سبھا کی موجودہ 543 نشستوں میں سے ایک تہائی یعنی 33 فیصد نشستیں خواتین کے لیے مختص کی جائیں، اور اس میں ایس سی، ایس ٹی اور او بی سی خواتین کے لیے بھی ریزرویشن شامل ہو۔ انہوں نے کہا کہ یہی موقف 2023 میں بھی اپوزیشن کا تھا اور آج بھی برقرار ہے، کیونکہ یہی حقیقی اختیارات کی شراکت داری اور آئینی اصولوں کے مطابق زیادہ جمہوری راستہ ہے۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس میں حکومت تین بل پیش کر رہی ہے، جن میں خواتین کے لیے ریزرویشن کو نافذ کرنے، پارلیمنٹ میں نشستوں کی تعداد بڑھانے اور حدبندی کے عمل کو آگے بڑھانے کی تجاویز شامل ہیں۔

حکومت کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے 2029 کے عام انتخابات تک خواتین کو مناسب نمائندگی دی جا سکے گی۔ تاہم حزب اختلاف کی جانب سے لگاتار آواز اٹھائی جا رہی ہے اور وہ ان بلوں کو صرف تکنیکی اصلاحات نہیں بلکہ ایک بڑے سیاسی قدم کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ ایسے میں پارلیمنٹ کے اندر ہونے والی بحث نہ صرف ان بلوں کے مستقبل کا فیصلہ کرے گی بلکہ آنے والے وقت میں ملک کی سیاسی سمت بھی متعین کر سکتی ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔