پارلیمنٹ میں آج 3 بل پیش کرنے کی تیاری، حزب اختلاف کا سخت ردعمل؛ کیا سیاست کا نیا رخ طے ہونے والا ہے؟
پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس میں خواتین ریزرویشن کو نافذ کرنے سے متعلق تین بل پیش ہوں گے۔ اپوزیشن نے خاص طور پر حدبندی کے طریقۂ کار پر اعتراض کرتے ہوئے اسے سیاسی حکمت عملی قرار دیا ہے

نئی دہلی: ملک کی سیاست ایک اہم موڑ پر کھڑی ہے جہاں آج سے پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس شروع ہو رہا ہے۔ اس اجلاس میں مرکزی حکومت کی جانب سے 3 اہم بل پیش کیے جا رہے ہیں جن کا مقصد خواتین کے لیے 33 فیصد ریزرویشن کو عملی شکل دینا ہے۔ یہ قدم 2023 میں منظور کیے گئے ’ناری شکتی وندن ادھینیم‘ کے نفاذ کی سمت میں ایک بڑی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، تاہم اس کے ساتھ ہی اپوزیشن نے حکومت کے طریقۂ کار پر شدید اعتراضات بھی درج کرائے ہیں۔
حکومت کی جانب سے پیش کیے جانے والے ان بلوں میں ایک طرف مرکز کے زیر انتظام علاقوں دہلی، جموں و کشمیر اور پڈوچیری کی اسمبلیوں میں خواتین کے لیے ریزرویشن کا انتظام شامل ہے، تو دوسری طرف آئینی ترمیم کے ذریعے پارلیمنٹ میں نشستوں کی تعداد بڑھانے اور حدبندی کے عمل کو آگے بڑھانے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔ سب سے زیادہ توجہ حدبندی کے بل پر مرکوز ہے، جس کے تحت لوک سبھا کی نشستوں کو موجودہ 543 سے بڑھا کر تقریباً 850 تک کرنے کی بات کی جا رہی ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ اس سے بڑھتی آبادی کے مطابق نمائندگی بہتر ہوگی اور خواتین کو 2029 کے عام انتخابات تک ریزرویشن کا فائدہ مل سکے گا۔ تاہم اپوزیشن جماعتوں کا ماننا ہے کہ اس پورے عمل میں شفافیت کی کمی ہے اور اسے سیاسی فائدے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
کانگریس کے سینئر رہنما راہل گاندھی نے اس معاملے پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت حدبندی اور انتخابی حلقوں کی ترتیب میں رد و بدل کے ذریعے اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کانگریس خواتین ریزرویشن کے اصول کی حمایت کرتی ہے لیکن موجودہ تجاویز کا اس اصل قانون سے براہ راست تعلق نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ او بی سی، دلت اور آدیواسی طبقات کے حقوق کو نظر انداز نہیں ہونے دیا جائے گا۔
اسی سلسلے میں کانگریس کے سینئر رہنما جے رام رمیش نے بھی اپنی ایکس پوسٹ میں کہا کہ لوک سبھا میں پیش کیے جانے والے تینوں بلوں کا تفصیلی تجزیہ ہو چکا ہے اور حزب اختلاف انہیں ناکام بنانے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے گی، خاص طور پر آئینی ترمیمی بل کے خلاف بھرپور مزاحمت کی جائے گی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ملک کو ایک ’سیاسی زلزلہ‘ کے لیے تیار رہنا چاہیے، جو اس معاملے کی سنجیدگی کو ظاہر کرتا ہے۔
دوسری جانب کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے اپوزیشن کے مشترکہ موقف کو سامنے رکھتے ہوئے کہا کہ حکومت کا طریقۂ کار قابل اعتراض ہے۔ ان کے مطابق اپوزیشن خواتین ریزرویشن کے خلاف نہیں، بلکہ اس کے نفاذ کے طریقے پر سوال اٹھا رہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ یہ عمل سیاسی مقاصد کے تحت تیزی سے آگے بڑھایا جا رہا ہے اور اس میں تمام فریقوں کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔
کھڑگے کی رہائش گاہ پر منعقدہ ایک اہم میٹنگ میں تقریباً 20 اپوزیشن جماعتوں نے شرکت کی اور اس معاملے پر یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔ اس میٹنگ میں مختلف ریاستوں کے سرکردہ لیڈران نے حصہ لیا اور حکومت کے خلاف مشترکہ حکمت عملی بنانے پر زور دیا گیا۔ اپوزیشن نے واضح کیا کہ وہ پارلیمنٹ کے اندر اس مسئلے پر متحد ہو کر آواز اٹھائے گی۔
حکومت کی طرف سے اس تنقید کا جواب دیتے ہوئے وزراء کا کہنا ہے کہ کچھ سیاسی جماعتیں غلط فہمیاں پھیلا رہی ہیں اور خواتین ریزرویشن جیسے اہم معاملے کو سیاست کی نذر کیا جا رہا ہے۔ اس کے باوجود یہ طے ہے کہ آنے والے دنوں میں پارلیمنٹ کے اندر اس مسئلے پر زبردست بحث ہوگی اور یہی طے کرے گی کہ ملک کی سیاست کس سمت میں آگے بڑھے گی۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔