خواتین ریزرویشن قانون: ملکارجن کھڑگے کا حکومت کی عجلت پر سوال، انتخاب کے بعد مشاورت کا مطالبہ

کانگریس صدر کھڑگے نے خواتین ریزرویشن قانون میں ترمیم پر حکومت کی جلدبازی پر سوال اٹھاتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اسمبلی انتخابات کے بعد اس معاملے پر آل پارٹی میٹنگ بلائی جائے

<div class="paragraphs"><p>کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے / یو این آئی</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

نئی دہلی: کانگریس صدر اور راجیہ سبھا میں قائد حزب اختلاف ملکارجن کھڑگے نے خواتین کے لیے ریزرویشن سے متعلق قانون میں ممکنہ ترمیم پر حکومت کی عجلت کو لے کر سخت سوالات اٹھائے ہیں اور اس معاملے پر وسیع تر سیاسی مشاورت کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو کو خط لکھ کر واضح کیا کہ جب ملک کے کئی علاقوں میں اسمبلی انتخابات جاری ہیں تو ایسے میں کسی بھی اہم آئینی ترمیم پر جلدی کرنا مناسب نہیں ہے۔

کانگریس صدر کھڑگے نے اپنے خط میں کہا کہ اپوزیشن جماعتیں پہلے ہی 24 مارچ کو حکومت کو تجویز دے چکی ہیں کہ اس حساس اور اہم موضوع پر بات چیت کے لیے آل پارٹی میٹنگ انتخابات کے بعد بلائی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتیں اس وقت انتخابی مہم میں مصروف ہیں، اس لیے سنجیدہ غور و فکر کے لیے مناسب ماحول انتخابی عمل مکمل ہونے کے بعد ہی ممکن ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ حکومت تقریباً ڈھائی سال قبل منظور کیے گئے آئینی ترمیمی قانون میں اب اچانک ترمیم کرنے کے لیے کیوں بے تاب دکھائی دے رہی ہے۔ کھڑگے کے مطابق اس معاملے پر جلدبازی نہ تو جمہوری اقدار کے مطابق ہے اور نہ ہی اس سے کسی مثبت نتیجے کی توقع کی جا سکتی ہے۔


کھڑگے نے یاد دلایا کہ انہوں نے ستمبر 2023 میں راجیہ سبھا میں بحث کے دوران خود خواتین ریزرویشن قانون کے فوری نفاذ کا مطالبہ کیا تھا لیکن اس وقت حکومت نے ان کی بات سے اتفاق نہیں کیا تھا۔ اب جبکہ حکومت خود اس قانون کے نفاذ کے لیے سرگرم نظر آ رہی ہے تو اسے تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لینا چاہیے۔

اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے بھی اسی طرح کے خیالات کا اظہار کیا گیا ہے۔ کئی پارٹیوں نے مشترکہ خط کے ذریعے حکومت سے کہا ہے کہ خواتین ریزرویشن قانون کے نفاذ کے طریقہ کار اور لائحہ عمل پر تفصیلی گفتگو کے لیے آل پارٹی میٹنگ بلائی جائے، مگر یہ اجلاس اسمبلی انتخابات مکمل ہونے کے بعد ہی ہونا چاہیے۔

رپورٹ کے مطابق حکومت اس قانون کو جلد نافذ کرنے کے لیے مزید آئینی ترامیم پر غور کر رہی ہے، تاکہ مردم شماری اور حلقہ بندی کے عمل کے بغیر ہی اسے عملی شکل دی جا سکے۔ تاہم اپوزیشن جماعتوں کو اس طریقہ کار پر تحفظات ہیں اور وہ اسے جلدبازی پر مبنی فیصلہ قرار دے رہی ہیں۔

کانگریس نے حکومت پر یہ الزام بھی عائد کیا ہے کہ وہ اس معاملے کو سیاسی بیانیہ بدلنے کے لیے استعمال کر رہی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ملک کو توانائی کے بحران اور خارجہ پالیسی کے چیلنجز کا سامنا ہے۔ پارٹی کے مطابق ایسے اہم قومی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے خواتین ریزرویشن کے مسئلے کو تیزی سے آگے بڑھایا جا رہا ہے۔


واضح رہے کہ خواتین کے لیے 33 فیصد ریزرویشن کا قانون 2023 میں آئینی ترمیم کے ذریعے منظور کیا گیا تھا، تاہم اس کا نفاذ مردم شماری اور نئی حلقہ بندی کے بعد ہی ممکن بتایا گیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اس قانون کے عملی اطلاق کے طریقہ کار کو لے کر سیاسی سطح پر اختلافات اب کھل کر سامنے آ رہے ہیں۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔