او بی سی، دلت اور قبائلی طبقات سے ’حصہ چوری‘ کسی حالت میں برداشت نہیں کی جائے گی: راہل گاندھی
راہل گاندھی کا کہنا ہے کہ حکومت جو تجویز پیش کرنے والی ہے، اس کا خواتین کے ریزرویشن سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ وہ صرف ڈیلمیٹیشن اور انتخابی حلقوں کی منمانی حد بندی کے ذریعہ اقتدار پر قبضہ کی کوشش ہے۔
کل، یعنی 16 اپریل سے پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس شروع ہونے والا ہے۔ اس سے عین قبل خواتین ریزرویشن اور ڈیلمٹیشن کا معاملہ سرخیوں میں ہے۔ یہ دونوں ہی معاملے خصوصی اجلاس میں زیر بحث آئیں گے، جس پر اپوزیشن پارٹیوں نے سخت اعتراض ظاہر کیا ہے۔ خاص طور پر اس کی نوعیت اور وقت کو لے کر مودی حکومت پر سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔ لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے ایک ویڈیو جاری کر اس سلسلے میں اپنی بات رکھی ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری ویڈیو میں راہل گاندھی نے کہا ہے کہ ’’کانگریس پارٹی خواتین ریزرویشن کی مکمل حمایت کرتی ہے۔ پارلیمنٹ نے 2023 میں اتفاق رائے سے یہ بل پاس کیا تھا، جو اب ہمارے آئین کا حصہ ہے۔‘‘ وہ آگے کہتے ہیں کہ ’’مرکزی حکومت اب جو تجویز لا رہی ہے، اس کا خواتین ریزرویشن سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ وہ صرف ڈیلمیٹیشن اور انتخابی حلقوں کی منمانی حد بندی کے ذریعہ اقتدار پر قبضہ کرنے کی کوشش ہے۔‘‘ اس ویڈیو پیغام میں وہ یہ بھی کہتے دکھائی دے رہے ہیں کہ ’’ذات پر مبنی مردم شماری کو درکنار کر او بی سی، دلت اور قبائلی طبقات سے کسی حالت میں ’حصہ چوری‘ برداشت نہیں کی جائے گی۔ ہم جنوب، شمال مشرق، شمال مغرب اور چھوٹی ریاستوں کے ساتھ بھی کسی قیمت پر ناانصافی نہیں ہونے دیں گے۔‘‘
کانگریس رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل سے مزید ایک پوسٹ جاری کی ہے، جس میں کچھ اہم حقائق سامنے رکھے گئے ہیں۔ انھوں نے لکھا ہے کہ ’’بی جے پی کے خطرناک منصوبوں میں سے ایک یہ ہے کہ وہ 2029 کے انتخابات کے لیے تمام لوک سبھا سیٹوں کی حدبندی (ڈیلمیٹیشن) اپنے فائدے کے مطابق کرنا چاہتی ہے۔‘‘ وہ یہ بھی لکھتے ہیں کہ ’’مجوزہ بلوں میں حدبندی سے متعلق تمام آئینی تحفظات کو ختم کر دیا گیا ہے، جس سے پوری طاقت ڈیلمیٹیشن کمیشن کو مل جائے گی، جسے خود حکومت مقرر کرے گی اور ہدایات دے گی۔‘‘
اس تعلق سے کانگریس لیڈر نے مثالیں بھی پیش کی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’ہم نے دیکھا ہے بی جے پی یہ کام کس طرح کرتی ہے۔ اس نے آسام اور جموں و کشمیر میں حدبندی کے عمل کو اپنے قبضے میں لے لیا، جہاں اس نے انتخابی فائدے کے لیے بی جے پی مخالف علاقوں اور برادریوں کو تقسیم کر دیا۔‘‘ انھوں نے آسام اور جموں و کشمیر میں ہوئی نئی حد بندی کے نتائج 3 پوائنٹس میں سامنے رکھے ہیں، جو اس طرح ہیں:
کچھ نشستوں پر 25 لاکھ ووٹرس ہیں، جبکہ کچھ پر صرف 8 لاکھ
کچھ نشستوں میں 12 اسمبلی حلقے ہیں، جبکہ کچھ میں صرف 6
کچھ نشستوں کو اس طرح ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے کہ ان کا آپس میں کوئی تعلق نہیں۔ یہ تقسیم کئی بار ندیوں یا پہاڑوں کے ذریعے کی جاتی ہے۔
اس مثال کو سامنے رکھنے کے بعد راہل گاندھی نے لکھا ہے کہ ’’الیکشن کمیشن پر قبضہ کرنے کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی کو یقین ہے کہ وہ ڈیلمیٹیشن کمیشن پر بھی قبضہ کر سکتے ہیں، لیکن کانگریس ایسا ہونے نہیں دے گی۔ حدبندی ایک شفاف پالیسی فریم ورک کی بنیاد پر ہونی چاہیے، جو وسیع صلاح و مشورہ اور اتفاق رائے کے بعد تیار کیا جائے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’تمام برادریوں اور ریاستوں کے ہندوستانیوں کو یہ اعتماد ہونا چاہیے کہ ان کی نمائندگی ہوگی اور ان کی آواز سنی جائے گی۔ جمہوریت کے تحفظ اور اسے مضبوط بنانے کے لیے یہی واحد راستہ ہے۔‘‘