جئے رام رمیش نے بی جے پی پر منی پور میں ملیٹنٹ تنظیموں کا ساتھ دینے کا لگایا الزام

کانگریس لیڈر جئے رام رمیش نے کہا کہ 5 مارچ کو دو اضلاع میں انتخاب ہونے والے ہیں اور یکم فروری و یکم مارچ کو رقم کی جو ادائیگی کی گئی ہے وہ انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہے۔

جے رام رمیش، تصویر آئی اے این ایس
جے رام رمیش، تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

’’فروری کی پہلی تاریخ کو منی پور حکومت نے انڈرگراؤنڈ تنظیم، جو کہ ایک ملیٹنٹ تنظیم ہے، اس کو تقریباً 15 کروڑ روپے کی ادائیگی کی ہے۔ پھر یکم مارچ کو تقریباً 95 لاکھ روپے کی ادائیگی کی گئی۔ یہ ادائیگی ہونے کے بعد چراچاند پور کانگپوکپی، تینگنوپل اور چندیل وغیرہ 11 اسمبلی حلقے ہیں جہاں لوگ اپنی مرضی سے ووٹ نہیں ڈال پائیں گے۔‘‘ یہ بیان آج کانگریس کے سینئر لیڈر جئے رام رمیش نے الیکشن کمیشن سے ملاقات کے بعد منعقد ایک پریس کانفرنس میں دیا۔ انھوں نے اس دوران بی جے پی پر سیاست فائدہ حاصل کرنے کے لیے ملیٹنٹ سے ہاتھ ملانے کا سخت الزام عائد کیا۔

جئے رام رمیش نے کہا کہ 5 مارچ کو دو اضلاع میں انتخاب ہونے والے ہیں اور یہ جو ادائیگی کی گئی ہے وہ انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہے۔ ایسا اس لیے کیونکہ 12 مہینے سے رقم کی کوئی ادائیگی نہیں کی گئی تھی۔ پہلی ادائیگی یکم فروری کو ہوئی اور دوسری یکم مارچ کو۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’’ان ادائیگیوں کے پیش نظر ہم نے الیکشن کمیشن سے ملاقات کی اور پوری جانکاری دی۔ انھوں نے ریاستی حکومت سے رپورٹ طلب کی ہے۔ ریاستی حکومت نے کہا ہے کہ یہ آئندہ سے متعلق ایک پروجیکٹ ہے۔‘‘


کانگریس لیڈر اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’’میرا سوال یہ ہے کہ اگر یہ آئندہ کا کوئی پروجیکٹ ہے تو 12 مہینے سے کوئی ادائیگی کیوں نہیں ہوئی۔ اچانک فروری کی یکم تاریخ اور مارچ کی یکم تاریخ کو آپ یہ پیمنٹ کیوں کرتے ہیں؟ یہ تنظیموں کو کیا گیا پیمنٹ ہے اور تنظیموں کے کیڈر کو 3000 روپے دیا جاتا ہے۔ یہ پروجیکٹ 2018 میں شروع کیا گیا تھا اور 15-12 کے لیے کوئی پیسہ نہیں دیا گیا تھا وزارت داخلہ سے۔‘‘

جئے رام رمیش نے اس پیمنٹ کو بے شرمی قرار دیا اور واضح طور پر ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی بتایا۔ انھوں نے کہا کہ ’’5 مارچ کو جو انتخابات ہونے والے ہیں وہاں دو یا تین ایسی سیٹیں ہیں جو انتہائی حساس ہیں۔ ہم نے انتخابی کمیشن سے کہا ہے کہ ان میں زیادہ فوج کی ضرورت ہے۔ ہمارے امیدواروں کی حفاظت کی ضرورت ہے۔‘‘ اس درمیان کانگریس لیڈر نے یہ بھی کہا کہ ’’وزیر داخلہ ہائروک جاتے ہیں اور ایک قتل کے ملزم کو ضمانت ملتی ہے۔ جب وزیر داخلہ ہائروک پہنچے تو ہم نے مطالبہ کیا تھا کہ جب تک انتخاب نہیں ہوتا ہے، ملزم کو عدالتی حراست میں رکھا جائے لیکن ایسا نہیں ہوا۔ وہ بی جے رکن اسمبلی کا بھائی ہے، وہ قتل کا ملزم ہے اور اس کے خلاف ایف آئی آر ہے، پھر بھی اسے ضمانت مل جاتی ہے۔ یہ کیسی جمہوریت ہے؟ میں تو سمجھتا ہوں کہ بی جے پی کے لیے یہ منی پور دراصل منی (پیسہ) پور ہے۔ ‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔