اٹلی نے طالبان حکومت میں شامل 17 وزراء کو بتایا دہشت گرد، حکومت کو تسلیم کرنے سے انکار

خامہ نیوز نے پیر کے روز بتایا کہ اٹلی کے وزیر خارجہ لویجی دی مایو نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ طالبان پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا الزام ہے اور اسے اٹلی کی طرف سے ریکوگنائز نہیں کیا جائے گا۔

 لویجی دی مایو، تصویر آئی اے این ایس
لویجی دی مایو، تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

روم: اٹلی کے وزیر خارجہ لویجی دی مایو نے افغانستان میں نگران طالبان حکومت میں نومنتخب وزراء میں سے کم از کم 17 کو ’دہشت گرد‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے ملک کے لیے اس حکومت کو تسلیم کرنا ناممکن ہے۔ خامہ نیوز نے پیر کے روز بتایا کہ لویجی دی مایو نے اتوار کو ایک بیان میں کہا کہ طالبان پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا الزام ہے اور اسے اٹلی کی طرف سے ریکوگنائز نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کو افغانستان کے لوگوں کی مالی مدد کرنی چاہیے اور دنیا کو مہاجرین کی آمد کو روکنے کے لیے ایک ساتھ آنا چاہیے۔ بڑی تعداد میں مہاجرین کی آمد سے ملک غیر مستحکم ہو جائیں گے۔

لویجی دی مایو کا یہ بیان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے اس دعوے کے بعد آیا ہے کہ افغانستان میں نگراں حکومت کو جلد ہی تسلیم کیا جائے گا کیونکہ وہ اقوام متحدہ کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ عالمی برادری نے تسلیم کرنے کے لیے پہلے ہی کچھ شرائط طے کر رکھی ہیں، جس میں خواتین اور انسانی حقوق کا احترام، ایک جامع حکومت کا قیام، افغانستان کو دہشت گردی کے لیے محفوظ پناہ گاہ نہ بننے دینا وغیرہ اہم ہیں۔ تاہم طالبان نے 15 اگست کو ملک پر قبضہ کیا ہے، تب سے اس نے ان میں سے کسی شرط کو پورا نہیں کیا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔