یو پی: گرفتار گوجر لیڈروں نے پولیس لائن میں لگائی پنچایت، بی جے پی کے بائیکاٹ کا کیا اعلان

قرارداد کو نافذ کرنے کے لیے ایک قومی گوجر سوابھیمان کمیٹی تشکیل دی گئی جس میں انترام تنور، رنویر چندیلا، ڈاکٹر روپ سنگھ، بی جے پی لیڈر مکھیا گوجر، راج کمار بھاٹی، نریندر گوجر وغیرہ کو شامل کیا گیا ہے۔

تصویر ویڈیو گریب
تصویر ویڈیو گریب
user

قومی آوازبیورو

اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے دادری دورہ سے راجہ مہر بھوج کی ذات پر اٹھے تنازعہ سے ناراض گوجروں کے ذریعہ اتوار کو طلب کی گئی پنچایت کو روکنے کے لیے یو پی پولیس نے پورا زور تو لگا دیا، لیکن انھیں پنچایت کرنے سے نہیں روک پائی۔ سینکڑوں کی تعداد میں گرفتار کرکے پولیس لائن لائے گئے گوجر لیڈروں نے پولیس لائن میں ہی پنچایت لگا کر اپنی طاقت دکھا دی۔

اس پنچایت میں اتفاق رائے سے تین قرارداد پاس کی گئیں۔ ان قراردادوں میں گوجر لیڈروں نے دادری میں لگی راجہ مہر بھوج کے مجسمہ کو گنگا کے پانی سے دھو کر پاک کرنے اور بی جے پی کا پوری طرح سے بائیکاٹ کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ پولیس لائن میں ہی گوجر پنچایت میں درج ذیل قرارداد پاس ہوئیں:

  • مہر بھوج کالج میں لگی گوجر سمراٹ مہر بھوج کے مجسمہ کو گنگا کے پانی سے دھو کر پاک کیا جائے گا

  • مجسمہ پر لگی تختی کو ہٹا کر دوسری تختی لگائی جائے گی، جس پر لکھا ہوگا گوجر سمراٹ مہر بھوج

  • آئندہ اسمبلی انتخاب میں گوجر سماج بی جے پی کا بائیکاٹ کرے گا


ان تینوں قرارداد کو نافذ کرنے کے لیے ایک قومی گوجر سوابھیمان کمیٹی بھی تشکیل دی گئی جس میں خصوصی طور پر انترام تنور، رنویر چندیلا، ڈاکٹر روپ سنگھ، بی جے پی لیڈر مکھیا گوجر، راج کمار بھاٹی، بابو سنگھ آریہ، رویندر بھاٹی، نریندر گوجر، ڈاکٹر مہندر ناگر، شیام سنگھ بھاٹی، پردیپ ورما وغیرہ کو شامل کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ وزیر اعلیٰ کے حالیہ دادری دورہ سے راجہ مہر بھوج کی ذات پر اٹھے تنازعہ سے ناراض گوجروں نے اتوار کو دادری کے مہر بھوج کالج میں ایک جلسہ طلب کیا تھا، لیکن نوئیڈا انتظامیہ نے آخری وقت میں اس کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ اس سے ناراض گوجروں نے چٹھہیرا گاؤں میں پنچایت بلانے کا اعلان کر دیا۔ اس پر پولیس نے گاؤں کو گھیر لیا اور کئی گوجر لیڈروں کو حراست میں لے لیا اور انھیں پولیس لائن لے گئی۔ لیکن گوجر لیڈروں نے پولیس حراست میں ہی پولیس لائن میں پنچایت کی اور اتفاق رائے سے بی جے پی کے خلاف قرارداد پاس کی گئی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔