راکیش ٹکیٹ نے حکومت پر دھوکہ دہی کا لگایا الزام

راکیش ٹکیٹ کہا کہ گزشتہ دس ماہ سے کسان 3 زرعی قوانین کو واپس لینے کے پیش نظر دہلی کے مضافات میں مہم چلا رہے ہیں اور اگر حکومت کی ہٹ دھرمی جاری رہی تو یہ تحریک دس سال تک چلائی جا سکتی ہے۔

راکیش ٹکیٹ، قومی آواز/ ویپن
راکیش ٹکیٹ، قومی آواز/ ویپن
user

یو این آئی

نئی دہلی: کسان رہنما راکیش ٹکیت نے آج حکومت پر کسانوں کے ساتھ دھوکہ دہی کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ضرورت ہوئی تو دس برس تک کسان تحریک چلائی جائے گی۔ رکیش ٹکیٹ نے کسانوں کے بھارت بند کو تحریک کا حصہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ دس ماہ سے کسان تین زرعی قوانین کو واپس لینے کا مطالبہ کے پیش نظر قومی دارالحکومت کے مضافات میں مہم چلا رہے ہیں اور اگر حکومت کی ہٹ دھرمی جاری رہی تو یہ تحریک دس سال تک چلائی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سڑکوں کو سیل نہیں کیا گیا ہے بلکہ ضروری خدمات کو بند سے آزاد رکھا گیا ہے۔ دودھ اور پھل سبزیوں کی فراہمی، امتحانات دینے والے طلباء اور بیمار لوگوں کو بند سے آزاد رکھا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت تین زرعی قوانین واپس نہیں لے رہی ہے اور کسانوں سے بات کرنا چاہتی ہے۔ کیا وہ کسانوں کو بیوقوف سمجھتی ہے؟ انہوں نے کہا کہ آج لوگوں کو اپنے گھروں میں رہ کر بھارت بند کی حمایت کرنی چاہیے اور اگر ضرورت ہو تو چار بجے کے بعد گھروں سے نکلنا چاہئے۔ ایسا نہیں کرنے پر وہ جام میں پھنسیں گے۔ انہوں نے دکانداروں سے بھی اپنی دکانیں شام 4 بجے تک بند رکھنے کی اپیل کی ہے۔


کسان رہنما نے کہا کہ ان کی تحریک پرامن ہے اور وہ جمہوری ڈھنگ سے اپنے مطالبات اٹھا رہے ہیں۔ دریں اثنا اہم اپوزیشن جماعتوں نے کسانوں کے بھارت بند کی حمایت کی ہے۔ دوسری جانب مرکزی وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر نے بھی کسان یونینوں سے احتجاج کا راستہ چھوڑ کر بات چیت کرنے کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسان یونین جو بھی تجاویز دیں گی اس پر کھلے ذہن سے غورو خوض کیا جائے گا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔