’ہندوستانی علاقے میں دراندازی کے لیے آئی ایس آئی کرتی ہے مدد‘، پاکستان کے گرفتار دہشت گرد کا انکشاف

بابر نے این آئی اے افسران کے سامنے اس بات کا اعتراف کیا کہ آئی ایس آئی کی حمایت سے دراندازی کی مزید کوششیں ہوں گی، کیونکہ 200 سے زائد دہشت گرد پاکستان مقبوضہ کشمیر میں ’لانچ پیڈ‘ کے منتظر ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

پاکستان کے گرفتار دہشت گرد علی بابر، جسے 26 ستمبر کو جموں و کشمیر کے اُری سیکٹر سے ہندوستانی فوج نے پکڑا تھا، نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان کے بدنام زمانہ خفیہ ایجنسی انٹر سروسز انٹلیجنس (آئی ایس آئی) دہشت گردوں کو ہندوستانی علاقہ میں گھسنے کے لیے امداد فراہم کر رہی ہے۔ ذرائع نے جمعرات کو یہ جانکاری دی۔

ذرائع کے مطابق بابر نے جمعرات کو قومی جانچ ایجنسی (این آئی اے) کے افسران کے سامنے اعتراف کیا کہ آئی ایس آئی کی سرگرم حمایت سے دراندازی کی مزید کوششیں کی جائیں گی، کیونکہ 200 سے زائد دہشت گرد پاکستان کے قبضے والے کشمیر میں ’لانچ پیڈ‘ کا انتظار کر رہے ہیں۔ وہ دہشت گرد دسمبر میں زبردست برف باری شروع ہونے سے پہلے جموں و کشمیر میں دھکیل دیے جائیں گے۔


بابر کا کہنا ہے کہ پاکستانی فوج بھی پاکستان مقبوضہ کشمیر میں لانچ پیڈ پر دہشت گردوں کی مدد کر رہی ہے۔ بابر کو 26 ستمبر کو اُری سیکٹر میں ہندوستانی فوج کے ایک آپریشن کے بعد پکڑ لیا گیا تھا۔ پوچھ تاچھ میں بابر نے انکشاف کیا ہے کہ وہ 18 ستمبر کو پانچ دیگر دہشت گردوں کے ساتھ جموں و کشمیر میں گھسا تھا۔ این آئی اے کے افسر بابر سے مزید جانکاری حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جیسے کہ اس نے کن راستوں کا استعمال کیا اور اسلحہ و گولہ-بارود اکٹھا کرنے کے لیے اس نے مقامی رابطہ کہاں پر قائم کیا، وغیرہ۔

خفیہ ایجنسیوں نے بھی متنبہ کیا ہے کہ اگلے کچھ ہفتوں میں سرحد پار سے دراندازی بڑھ سکتی ہے، کیونکہ سرحد پار بیٹے دہشت گرد چاہتے ہیں کہ وہ وادی میں زبردست برف باری شروع ہونے سے پہلے ہندوستانی سرحد میں داخل ہو جائیں۔ بی ایس ایف نے ایل او سی پر اپنی گشت تیز کر دی ہے جب کہ دہشت گرد نگرانی گروپ (ٹی ایم جی) میں شامل مرکزی خفیہ ایجنسی، سی آر پی ایف اور ایس او جی کے افسران لگاتار حفاظتی انتظامات پر نظر رکھ رہے ہیں۔ افسران نے کہا کہ جموں و کشمیر پولیس بھمبر کے سرحدی علاقوں پر نظر رکھ رہی ہے، جس کا استعمال حال کے دنوں میں دہشت گردوں کے ذریعہ کیا گیا ہے۔


افسران نے یہ بھی کہا کہ آئی ایس آئی جموں و کشمیر میں دہشت گردانہ حملوں کو لے کر کوشش کرنے کے لیے دہشت گرد گروپوں کے درمیان تال میل بٹھانے کی کوشش کر رہی ہے۔ انھوں نے دراندازی کے لیے 8 نئے راستوں کی پہچان کی ہے، جس کا انکشاف ہندوستانی خفیہ ایجنسیوں کے ذریعہ آئی ایس آئی اور دہشت گردوں کے درمیان انٹرسیپٹیڈ چیٹ کو ڈیکوڈ کرنے کے بعد کیا گیا ہے۔

افسران نے یہ بھی کہا کہ مظفر آباد کے چیلابندی میں لشکر طیبہ کے نئے دفتر میں ایک میٹنگ ہوئی، جس میں جیش محمد، لشکر طیبہ اور البدر کے آقاؤں نے حصہ لیا، جس میں انھیں واضح طور سے ہدایت دی گئی ہے کہ ہندوستانی علاقہ میں دہشت گردوں کو دھکیلے کا کام دسمبر سے پہلے ختم کر لیا جانا چاہیے۔ سیکورٹی فورسز کے ذرائع نے کہا کہ سبھی نئے پہچانے گئے راستوں- نالی، کوٹکوٹیرا، نکیل، بنٹل گوئی، تارکنڈی ڈباسی اور کوئریٹا- جو پاکستان مقبوضہ کشمیر میں واقع ہے، سے جموں و کشمیر میں ایل او سی تک پہنچنے کے لیے دہشت گرد جنگلوں سے گزرتے ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔