اتر پردیش میں نقلی ٹیکہ کاری کے گروہ کا پردہ فاش، 3 ہزار سے زائد ویکسین کی خوراکیں برآمد

پہلی خوراک لینے والے 42 سالہ اومیش چندر نے کہا کہ دوسرا انجیکشن 7 نومبر کو لگنا تھا لیکن مرکز پہنچنے سے قبل ہی اسے فون پر پیغام موصول ہوا کہ انہیں دوسری خوراک لگا دی گئی ہے

کورونا ویکسین / آئی اے این ایس
کورونا ویکسین / آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

لکھنؤ: یوپی میں ضلع اناؤ کے میاں گنج علاقے میں ایک فرضی ٹیکہ کاری گروہ پردہ فاش کیا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق یہاں ویکسین کی 3000 سے زیادہ خوراکیں کولڈ اسٹوریج کے باہر رکھی گئی تھیں۔ نیز مستفیدین کو جعلی پیغامات مل رہے تھے کہ انہیں ویکسین لگائی جا چکی ہے۔

میاں گنج میں کمیونٹی ہیلتھ سنٹر کے لیے بنائی گئی ویکسین کی تقریباً 3000 خوراکیں ایک پرائیویٹ ملازم کے گھر سے مشتبہ حالات میں برآمد کی گئیں۔ ویکسین کولڈ اسٹوریج میں نہیں رکھی گئی تھیں۔ جعلی ٹیکہ کاری کرنے والے اس گروہ کا پردہ فاش اس وقت ہوا جب مستفیدین کو معلوم ہوا کہ انہیں دوسری خوراک لگا دی گئی ہے، جبکہ حقیقت میں انہیں دوسری خوراک نہیں لگائی گئی تھی۔


پہلی خوراک لینے والے 42 سالہ اومیش چندر نے کہا کہ دوسرا شاٹ 7 نومبر کو دیا جانا تھا لیکن مرکز پہنچنے سے پہلے ہی انہیں اپنے فون پر ایک پیغام موصول ہوا جس میں کہا گیا تھا کہ انہیں دوسری خوراک لگا دی گئی ہے۔

اس موقع پر پہنچے صفی پور کے بی جے پی ایم ایل اے بمبلال دیواکر نے اعلیٰ افسران کے ساتھ دفتر وزیر اعلیٰ کو بھی شکایت ارسال کی ہے اور قصورواروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ چیف میڈیکل آفیسر (سی ایم او) نے واقعہ کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

تفتیشی افسر سنگیت پٹیل نے بتایا کہ سی ایچ سی کے سپرنٹنڈنٹ آفتاب احمد نے اسٹور ہیلپر رانی کو ویکسین کی خوراکوں کا ڈبہ اپنی جگہ پر رکھنے کو کہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہیں اس بارے میں کوئی علم نہیں ہے کہ ان خوراکوں کا استعمال کیا گیا ہے یا نہیں اور وہ صرف سپرنٹنڈنٹ کے حکم پر عمل کر رہی تھی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔