یوگی راج میں ایک ہی رات تین جگہوں پر قتل، کانگریس نے کہا 'جنگل راج کی حد ہے'

اتر پردیش کی یوگی حکومت میں اب بدمعاش پوری طرح بے خوف ہیں۔ اس کی مثال مظفر نگر، جون پور اور لکھیم پور کھیری ہے جہاں دیر رات قتل کے واقعات دیکھنے کو ملے۔

علامتی تصویر سوشل میڈیا
علامتی تصویر سوشل میڈیا
user

تنویر

اتر پردیش میں ان دنوں بدمعاشوں کے حوصلے انتہائی بلند ہیں۔ نہ انھیں پولس کا خوف ہے اور نہ ہی قانون کی فکر۔ یہی وجہ ہے کہ اتر پردیش اب 'قتل پردیش' بنتا جا رہا ہے۔ یہاں ان دنوں قتل کے واقعات تیزی کے ساتھ بڑھ رہے ہیں۔ اتر پردیش میں گزشتہ کچھ گھنٹوں میں ہی قتل کی کئی وارداتیں ہوئی ہیں۔ ریاست میں لگاتار ہو رہے قتل کو لے کر اپوزیشن بھی حکومت پر حملہ آور ہے۔ اتر پردیش کانگریس نے یوگی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ جنگل راج اب خطرناک ہو چکا ہے۔ دراصل ریاست میں تین بڑے قتل کے واقعات گزشتہ شب ہوئے۔ پہلا واقعہ مظفر نگر میں ہوا جب کہ دوسرا جون پور اور تیسرا لکھیم پور کھیری میں سامنے آیا۔

مظفر نگر کے رہنے والے ایک تاجر کی گزشتہ دنوں گھر میں گھس کر گولی مار کر قتل کر دیا گیا۔ کئی موٹر سائیکلوں پر سوار ہو کر آئے 6 بدمعاشوں نے اس پورے واردات کو انجام دیا۔ گھر میں گھس کر اندھا دھند فائرنگ کی گئی۔ اس واقعہ کے بعد پورے علاقے میں دہشت کا ماحول ہے۔ یہ واقعہ بھوپا تھانہ حلقہ کے قصبہ مورنا میں پیش آیا۔ قابل ذکر ہے کہ انوج کرنوال کی دوا دکان ہے۔ رات کے وقت جیسے ہی وہ گھر پہنچا تو اس کے پیچھے لگے بدمعاش بھی اس کے گھر میں گھس گئے۔ انوج کو دو گولیاں لگیں جس سے اس کی موت واقع ہو گئی۔ گھر سے باہر نکلتے ہوئے بدمعاش ہوا میں فائرنگ کر رہے تھے۔

دوسرا قتل جون پور میں ہوا۔ جانکاری کے مطابق سرپتہاں تھانہ حلقہ کے اماری گاؤں باشندہ گرام پردھان بسنت لال بند کی جمعرات کی دیر رات بدمعاشوں نے گولی مار کر قتل کر دیا۔ جائے حادثہ پر ہی ان کی موت ہو گئی تھی۔ جمعرات کی شب تقریباً 10 بجے وہ کلینک میں گاؤں کے رام تیرتھ شرما کے ساتھ بیٹھ کر باتیں کر رہے تھے۔ اسی دوران اچانک ایک موٹر سائیکل پر سوار ہو کر تین بدمعاش پہنچے اور سیدھے کلینک میں گھس گئے۔ موقع پر موجود رام تیرتھ شرما کے مطابق تینوں بدمعاشوں کے چہرے کپڑے سے ڈھکے ہوئے تھے۔ اندر آتے ہی اچانک ایک بدمعاش نے اس کا ہاتھ اور منھ بند کر دیا۔ وہیں اس دوران سامنے بیٹھے پردھان کی کنپٹی پر طمنچہ سٹا کر یکے بعد دیگرے تین فائرنگ کی۔ گولی لگتے ہی پردھان موقع پر ہی گر پڑے۔

تیسرا واقعہ لکھیم پور کھیری کا ہے جہاں گولہ قصبہ میں جمعرات کی دیر شب لکھنؤ یونیورسٹی کے طلبا لیڈر کا گولی مار کر قتل کر دیا گیا۔ قتل کا الزام طلبا لیڈر کے قریبی رشتہ پر ہی ہے۔ لکھنؤ یونیورسٹی کے طلبا لیڈر اور بی جے پی یوتھ مورچہ سے جڑے امن واجپئی ولد وجے واجپئی ان دنوں اپنے گھر گولہ قصبہ میں تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ دیر رات ان کی فیملی کے لوگوں سے ہی جھگڑا ہو گیا۔ اس دوران مار پیٹ میں امن کے ایک قریبی رشتہ دار نے انھیں گولی مار دی۔

next