کیا ایرانی حکومت ’حماس‘ کو ہر ماہ کروڑوں ڈالر فراہم کر رہی ہے؟

عرب میڈیا رپورٹ کے مطابق ایران کے ایک سینئر عہدیدار نے دعوی کیا ہے کہ ایرانی حکومت ہر ماہ فلسطینی تنظیم ’حماس‘ کو کروڑوں ڈالر فراہم کر رہی ہے۔

تصویر بشکریہ جنگ
تصویر بشکریہ جنگ
user

یو این آئی

تہران: اسرائیل اور فلسطین کے درمیان 11 روزہ جنگ، جنگ بندی پر ختم ہوچکی ہے اور جنگ بندی پر قائم رہنے اور تعمیر نو کے عمل کے بارے میں عالمی برادری غور و فکر کر رہی ہے لیکن اسی دوران ایران نے دعوی کیا ہے کہ وہ حماس کو ماہانہ کروڑوں ڈالر مہیا کر رہا ہے۔

عرب میڈیا رپورٹ کے مطابق ایران کے ایک سینئر عہدیدار نے دعوی کیا ہے کہ ایرانی حکومت ہرماہ فلسطینی تنظیم ’حماس‘ کو کروڑوں ڈالر فراہم کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں فلسطینی تنظیموں کی فنڈنگ ایران کے پروگرامات کا ایک حصہ ہے۔ اسی کے ساتھ ایرانی عہدیدار نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ غزہ پٹی میں زیر زمین راکٹ سازی کے تین کار خانے کام کر رہے ہیں۔


انہوں نے دعوی کیا کہ ایران کی مدد سے حماس نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے راکٹ تیار کرلیے ہیں۔ دیگر میڈیا ذرائع کے مطابق حماس کی سرمایہ کاری کا حجم کروڑوں ڈالر میں ہے۔ مغربی ذرائع ابلاغ کے مطابق حماس کو بعض یورپی فلاحی اداروں سے بھی مدد مل رہی ہے۔

یہ انکشافات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب 10 مئی سے 21 مئی تک مسلسل گیارہ روز اسرائیلی فوج نے غزہ پٹی پر بمباری کی۔ بمباری میں 240 فلسطینی شہید اور 13 اسرائیلی ہلاک ہوئے ہیں۔ اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے غزہ پٹی میں حماس کے اسلحہ کے مراکز اور راکٹ تیار کرنے والی فیکٹریوں کو نشانہ بنا کر انہیں تباہ کیا ہے۔ واضح رہے کہ اس جنگ کے نتیجے میں غزہ ملبہ کا ڈھیر نظر آتا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔