بنگال: بی جے پی کو جھٹکا، سونالی کے بعد مزید 2 لیڈروں نے پارٹی چھوڑنے کا کیا فیصلہ

بی جے پی لیڈر امول آچاریہ ٹی ایم سی چھوڑ کر بی جے پی میں شامل ہوئے تھے اور اب گھر واپسی چاہتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’’میں نے وزیر اعلیٰ کو خط لکھ کر معافی مانگی ہے۔ مجھے امید ہے وہ معاف کر دیں گی۔‘‘

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی
user

تنویر

مغربی بنگال میں ترنمول کانگریس کے برسراقتدار ہونے کے بعد بی جے پی کی مشکلیں بڑھتی ہوئی نظر آ رہی ہیں۔ یکے بعد دیگرے اس کے لیڈران پارٹی چھوڑ کر ترنمول میں شامل ہونے کا ارادہ ظاہر کر رہے ہیں۔ گویا کہ مغربی بنگال میں اسمبلی الیکشن سے قبل جو پارٹی بدلنے کا سلسلہ شروع ہوا تھا، وہ اسمبلی الیکشن کے نتائج برآمد ہونے کے بعد بھی جاری ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ پہلے بی جے پی اور ترنمول کانگریس کے لیڈران ایک پارٹی چھوڑ کر دوسرے میں شامل ہو رہے تھے، اور اب صرف بی جے پی لیڈران ترنمول کانگریس کا دامن تھام رہے ہیں۔

دراصل کئی ایسے ترنمول کانگریس لیڈران جو الیکشن سے قبل بی جے پی میں شامل ہو گئے تھے، اب واپس ترنمول کانگریس جوائن کر رہے ہیں، یا پھر آنے والے دنوں میں جوائن کریں گے۔ بنگال اسمبلی کی سابق ڈپٹی اسپیکر سونالی گوہا نے گزشتہ 22 مئی کو کہا تھا کہ وہ ترنمول کانگریس میں دوبارہ شامل ہونا چاہتی ہیں، اور اس سلسلے میں انھوں نے وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کو ایک جذباتی چٹھی بھی لکھی تھی۔ اب ترنمول چھوڑ کر بی جے پی میں شامل ہونے والے دو مزید لیڈروں نے ممتا بنرجی کی پارٹی میں جانے کی بات کہی ہے۔


مالدہ ضلع کونسل کی رکن سرلا مرمو کا کہنا ہے کہ انھیں اپنی غلطی کا احساس ہو گیا ہے اور وہ اب واپسی کرنا چاہتی ہیں۔ ان کے علاوہ شمالی دیناج پور سے سابق رکن اسمبلی امول آچاریہ نے بھی ترنمول کانگریس میں واپسی کی بات کہی ہے۔ آچاریہ کا کہنا ہے کہ ترنمول کانگریس کے سینئر لیڈروں کے خلاف جو سی بی آئی کارروائی ہو رہی ہے وہ غلط ہے اور اسی وجہ سے وہ بی جے پی چھوڑنا چاہتے ہیں۔

دونوں ہی لیڈروں نے بی جے پی میں شامل ہونے کے فیصلے کو اپنی غلطی کہا ہے اور ترنمول میں ایک بار پھر شامل ہونے کے لیے سرکردہ لیڈروں سے رابطہ کرنا شروع کر دیا ہے۔ سرلا مرمو کا کہنا ہے کہ ’’بی جے پی جوائن کرنا میری غلطی تھی۔ اب جب وزیر اعلیٰ نے پارٹی چھوڑنے والوں سے واپس آنے کی اپیل کی ہے تو میں پارٹی میں لوٹنا چاہتی ہوں۔‘‘


دوسری طرف امول آچاریہ کا کہنا ہے کہ ’’میں نے ہمیشہ ممتا بنرجی کو اپنا لیڈر مانا ہے۔ لیکن میں نے کبھی یہ نہیں سوچا تھا کہ مجھے نامزدگی سے روک دیا جائے گا۔ میں اس بات سے افسردہ تھا اور بی جے پی میں چلا گیا تھا۔ یہ میری غلطی تھی۔ اب بی جے پی سبرت مکھرجی، فرہاد حکیم اور دیگر لیڈروں کے خلاف بدلے کی کارروائی کر رہی ہے۔ سب کچھ بالکل صاف نظر آ رہا ہے۔ میں نے وزیر اعلیٰ کو خط لکھ کر معافی مانگی ہے۔ مجھے امید ہے کہ وہ معاف کر دیں گی۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔