بلیک اور وہائٹ فنگس سے لوگ بے چین، کئی اعضاء پر ہو رہا اثر

ڈاکٹروں کے مطابق بلیک فنگس دل، ناک اور آنکھوں کو زیادہ نقصان پہنچاتا ہے اور پھیپھڑوں پر بھی اس کا اثر پڑتا ہے، جبکہ وہائٹ فنگس پھیپھڑوں کو بلیک فنگس کے مقابلے زیادہ متاثر کرتا ہے۔

تصویر آئی اے این ایس
تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

کورونا انفیکشن کے درمیان بلیک اور وہائٹ فنگس کی دستک نے لوگوں کو بے چین کر دیا ہے۔ اس بیماری سے عام لوگ پریشان اور فکرمند ہیں۔ ڈاکٹروں کی مانیں تو بلیک فنگس دل، ناک اور آنکھ کو زیادہ نقصان پہنچاتا ہے۔ پھیپھڑوں پر بھی اس کا اثر ہے۔ جب کہ وہائٹ فنگس پھیپھڑوں کو اس کے مقابلے زیادہ نقصان پہنچاتا ہے۔

اچھی بات یہ ہے کہ ماہرین کے مطابق بلیک اور وہائٹ فنگس کا علاج پوری طرح سے موجود ہے۔ بس اس میں احتیاط سے کام لینے کی ضرورت ہے۔ پوروانچل کے مئو علاقے میں وہائٹ فنگس کے کیس ملنے سے لوگوں میں فکر ہے۔ اس تعلق سے ہر جگہ کے ہیلتھ ڈپارٹمنٹ کو الرٹ کیا گیا ہے۔ یہ کورونا سے ملتی جلتی علامتوں والی بیماری بتائی جا رہی ہے۔ وہائٹ فنگس پھیپھڑوں کو متاثر کر اسے ڈیمیج کر دیتا ہے اور سانس پھولنے کی وجہ سے مریض کورونا کی جانچ کراتا رہ جاتا ہے۔ سینے کی ایچ آر سی ٹی اور بلغم کے کلچر سے اس بیماری کا پتہ چلتا ہے۔


کے جی ایم یو کے ریسپریٹری میڈیسن ڈپارٹمنٹ کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر جیوتی واجپئی نے بتایا کہ ’’فنگس صرف فنگس ہوتا ہے۔ نہ تو وہ سفید ہوتا ہے اور نہ ہی کالا ہوتا ہے۔ میوکرمائکس ایک فنگل انفیکشن ہے۔ یہ کالا دکھائی پڑنے کے سبب اس کا نام بلیک فنگس دے دیا گیا ہے۔ سیاہ چکتّہ پڑنے سے ہی اس کا نام بلیک فنگس پڑا۔ میڈیکل لٹریچر میں وہائٹ اور بلیک فنگس کچھ نہیں ہے۔ یہ الگ کلاس ہوتی ہے۔ یہ لوگوں کو سمجھنے کے لیے بلیک اینڈ وہائٹ کا نام دیا گیا ہے۔ وہائٹ فنگس کینڈیڈیاسس (کینڈیڈا) آنکھ، ناک اور گلے کو کم متاثر کرتا ہے۔ یہ سیدھے پھیپھڑوں کو متاثر کرتا ہے۔‘‘

سینے کی ایچ آر سی ٹی اور بلغم کے کلچر سے اس بیماری کا پتہ چلتا ہے۔ پھیپھڑے میں کورونا کی طرح دھبے ملتے ہیں۔ پہلی لہر میں ان دونوں کا کوئی خاص اثر نظر نہیں آیا۔ دوسری لہر میں وائرس کا ویریئنٹ بدلا ہے۔ اس بار کی لہر کی زد میں خاص کر نوجوان آئے۔ یہ کم دنوں میں بہت تیز رفتاری سے بڑھا ہے۔ اس کی وجہ سے لوگوں کو طویل مدت تک اسپتالوں میں رہنا پڑا ہے۔ اس کے علاوہ اسٹیرائیڈ کا کافی استعمال کرنا پڑا ہے۔ ذیابیطس کے مریض بھی زیادہ اس کی زد میں آئے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ’’آکسیجن کی پائپ لائن اور ہیومیڈیفائر صاف ہو۔ ذیابیطس کنٹرول رکھیں۔ پھیپھڑوں میں پہنچنے والی آکسیجن صاف اور فنگس سے پاک ہوں۔ اسے لے کر محتاط رہیں بلکہ پریشان نہیں ہونا چاہیے۔


بلیک فنگل انفیکشن سے وہ لوگ متاثر ہو رہے ہیں جن کی قوت مدافعت کمزور ہے، جو پہلے سے کسی سنگین بیماری کے شکار ہیں، جیسے ذیابیطس یا پھر اسٹیرائیڈس کا استعمال کیا ہے۔ جن لوگوں کو ہائی آکسیجن سپورٹ کی ضرورت پڑی، ان میں بھی اس بیماری کا جوکھم بڑھ جاتا ہے۔ چلتا پھرتا مریض بلیک فنگس سے متاثر نہیں ہوتا ہے۔‘‘ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ بلیک فنگس نئی بیماری نہیں ہے، اس کا علاج موجود ہے۔ اینٹی فنگس دوائیں اس میں استعمال ہو رہی ہیں۔ اس میں میڈیکل اور سرجیکل دونوں تھیراپی میں علاج ممکن ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 24 May 2021, 3:12 PM