پٹنہ گرلز ہاسٹل معاملے کی تحقیقات تیز، 3 گھنٹے ہاسٹل میں تلاشی کے دوران سی بی آئی کو ملے اہم ثبوت

متاثرہ کے اہل خانہ نے الزام لگایا تھا کہ طالبہ کی عصمت دری کی گئی اورپھراسے قتل کیا گیا۔ انہوں نے پولس پر پورے معاملے کو رفع دفع کرنے کا بھی الزام لگایا جس پرپولیس کے بیان کے بعد سے ہی تنازع شروع ہوا۔

<div class="paragraphs"><p>سی بی آئی علامتی تصویر / آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

بہار کی راجدھانی پٹنہ میں سرخیوں میں رہی نیٹ کی طالبہ کی مشتبہ موت کے معاملے کی تحقیقات میں تیزی آگئی ہے۔ مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) کو معاملے کی جانچ کی ذمہ داری سونپے جانے کے بعد ایجنسی مسلسل کارروائی کر رہی ہے۔ اس کڑی میں گزشتہ روز سی بی آئی کی ٹیم نے پٹنہ واقع شمبھو گرلز ہاسٹل میں تقریباً 3 گھنٹے تک تلاشی مہم چلائی۔ اس دوران ہاسٹل کے کمروں، رجسٹر، سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگرالیکٹرانک آلات کی باریکی سے جانچ کی گئی۔

ٹیم نے کچھ اہم دستاویزات اور ڈیجیٹل شواہد قبضے میں لے ہیں، جن کا تکنیکی تجزیہ کیا جائے گا۔ اتوار کی صبح سی بی آئی کی ٹیم نے جہان آباد میں متاثرہ کے آبائی گھر کا بھی دورہ کیا، جہاں اہل خانہ سے تفصیلی پوچھ گچھ کی گئی۔ افسران نے طالبہ کے روزمرہ کے معمولات، دوستوں کے ساتھ تعلقات، حالیہ سرگرمیوں اور کسی بھی ممکنہ تنازعہ یا دھمکی کے بارے میں بھی معلومات یکجا کی۔


ذرائع کے مطابق تحقیقاتی ایجنسی واقعے کی اصل وجوہات جاننے کے لیے کیس کی ہر زاویے سے تحقیقات کر رہی ہے۔ واضح رہے کہ متاثرہ کے اہل خانہ نے الزام لگایا تھا کہ طالبہ کی عصمت دری کی گئی اور پھراسے قتل کیا گیا۔ انہوں نے پولس پر پورے معاملے کو رفع دفع کرنے کا بھی الزام لگایا تھا جس پرپولیس کے بیان کے بعد سے ہی تنازع شروع ہوا۔ پولیس اسے خودکشی کا معاملہ قرار دے رہی تھی لیکن جب طالبہ کی پوسٹ مارٹم رپورٹ آئی تو اس میں جنسی زیادتی کا انکشاف ہوا۔

اس کے بعد پولیس پر کئی طرح کے الزامات لگائے جانے لگے۔ حالانکہ پولیس نے اس معاملے میں ہاسٹل کے مالک کو گرفتار کیا تھا لیکن گرلز ہاسٹل چلانے والے کو بغیر پوچھ گچھ کے ہی چھوڑ دیا گیا تھا۔ معاملے کی تحقیقات کے لیے تشکیل دی گئی ایس آئی ٹی نے طالبہ کو نابالغ قرار دیتے ہوئے پوکسو ایکٹ کی دفعات بھی شامل کی تھیں۔ ایس آئی ٹی کی جانچ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ نیٹ کی طالبہ کے زیر جامہ اسپرم پایا گیا تھا۔ اس کے ملان کے لیے کئی لوگوں کے ڈی این اے نمونے لئے گئے۔ اس میں خاندان کے کچھ افراد اور رشتہ داربھی شامل تھے۔ اس کارروائی پراہل خانہ نے کچھ سوال بھی کھڑے کئے تھے۔ بعد ازاں حکومت نے پوری تحقیقات سی بی آئی کو سونپ دی تھی۔