چنڈی گڑھ میونسپل کارپوریشن انتخاب میں کسی کو اکثریت نہ ملنے سے بنے دلچسپ حالات

عام آدمی پارٹی، بی جے پی اور کانگریس کے درمیان میئر کے عہدوں پر جیت کی رسہ کشی دیکھنے کو ملے گی، عآپ اور کانگریس کے درمیان اگر معاہدہ ہوتا ہے تو بی جے پی کے لیے مشکلات کھڑی ہو جائیں گی۔

لوگو، چنڈی گڑھ میونسپل کارپوریشن
لوگو، چنڈی گڑھ میونسپل کارپوریشن
user

یو این آئی

چنڈی گڑھ: چنڈی گڑھ میونسپل کارپوریشن کے انتخابات میں منقسم منڈیٹ ہونے کے سبب عام آدمی پارٹی (اے اے پی)، بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور کانگریس کے لئے اب میئر، سینئر ڈپٹی میئر اور ڈپٹی میئر کے عہدوں پر جیت کے بعد بڑا چیلنج ہوگا۔

کارپوریشن کے کل 35 وارڈوں کے لیے 24 دسمبر کو انتخابات ہوئے تھے اور 27 دسمبر کو ہونے والی گنتی میں اے اے پی 14 سیٹیں جیت کر پہلے، بی جے پی 12 سیٹوں کے ساتھ دوسرے اور کانگریس آٹھ سیٹوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہی۔ عوام نے ان میں سے کسی پارٹی کو واضح اکثریت نہیں دی ہے۔ واضح اکثریت کے لیے 19 ووٹ درکار ہیں۔ ایسے میں کارپوریشن کے تینوں میئر عہدوں کے لیے جوڑ توڑ اور داؤ پیچ کا سلسلہ شروع ہونے والا ہے۔


کارپوریشن میں 35 ارکان کے علاوہ، چندی گڑھ کا رکن پارلیمنٹ بھی ایک سابقہ ​​رکن ہے اور اسے ووٹ دینے کا حق حاصل ہے۔ چنڈی گڑھ سے اس وقت کرن کھیر رکن پارلیمنٹ ہیں جو بی جے پی سے ہیں۔ ایسے میں ایوان میں بی جے پی کے ووٹوں کی تعداد 13 ہوجاتی ہے جو کہ میئرکے عہدے کا انتخاب جیتنے کے لیے کافی نہیں ہے۔ ایسے میں اب مذکورہ تینوں جماعتیں ان عہدوں پر قبضہ کرنے کے لیے جوڑ توڑ کی کوششیں شروع کریں گی۔ ان جماعتوں کو اپنے کونسلرز کو ساتھ رکھنا بھی ایک بڑا چیلنج ہوگا۔ کارپوریشن انتخابات میں دل بدل مخالف قانون نافذ نہ ہونے کے سبب یہ سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کے کیمپ میں نقب لگانے اور کراس ووٹنگ کی کوشش کریں گی۔ کارپوریشن کے موجودہ ممبران کی مدت کار 8 جنوری تک ہے اور اس دوران ہر پارٹی کو اپنے کونسلرز کو متحد رکھنے کے لیے محتاط رہنا ہوگا۔ اس سے پہلے 30 دسمبر کو کارپوریشن کی آوٹ گوئنگ ایوان کی آخری اور اہم میٹنگ بھی ہونے جا رہی ہے۔

میئر کے عہدوں کے انتخاب میں اے اے پی اور کانگریس کے درمیان اگر معاہدہ ہوتا ہے تو جیت یقینی ہو سکتی ہے۔ یہاں یہ یاد دلانا ضروری ہے کہ 2013 کے دہلی اسمبلی انتخابات میں کسی بھی پارٹی کو واضح اکثریت نہ ملنے پر وہاں اے اے پی کی حکومت بننے میں کانگریس نے حمایت دی تھی۔ تاہم یہ حکومت زیادہ وقت تک نہیں چل پائی اور فروری 2014 میں کیجریوال کو وزیراعلیٰ کے عہدے سے استعفیٰ دینا پڑا۔


دوسری طرف یو این آئی سے بات چیت میں میئر کے عہدوں کے الیکشن میں اے اے پی کے ساتھ اتحاد یا رضامندی کے پیش نظر چنڈی گڑھ پردیش کانگریس کے صدر سبھاش چاولہ نے صاف انکار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسا کسی صورت نہیں ہو گا۔ انہوں نے بتایا کہ کانگریس میئر کے تینوں عہدوں کے لئے اپنے امیدوار کھڑے کرے گی، کیونکہ پارٹی نے پچھلی بار کی چار سیٹوں سے اس بار اپنی سیٹیں دوگنی یعنی آٹھ کی ہیں اوراس کا 29.79 فیصد ووٹ فیصد رہا ہے جو بی جے پی اور اے اے پی سے زیادہ ہے۔ ایسے میں ان کی تمام کونسلروں سے اپیل ہوگی کہ وہ ووٹ فیصد کا احترام کرتے ہوئے کانگریس کے میئر کے عہدے کے امیدواروں کی حمایت کریں۔

سال 2013 کی طرز پر اے اے پی کی حمایت کرنے کے سوال پر انہوں نے کہا کہ اس وقت کے اور آج کے اروند کیجریوال میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ اس وقت کا کیجریوال مفلر لپیٹے ہوئے خود کوعام آدمی اور سہولیات نہ لینے کی بات کرتا تھا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ آج کا کیجریوال مبینہ طور پر ملک کا سب سے بدعنوان شخص ہے۔ چنڈی گڑھ کارپوریشن کے انتخابات میں کروڑوں روپے بہائے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے بی جے پی کو اپنا روایتی سیاسی حریف بتاتے ہوئے میئر کے عہدوں کے الیکشن میں اس کے ساتھ بھی کوئی اتحاد کرنے سے انکار کیا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔