بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد مہنگائی میں ہوا اضافہ: اکھلیش یادو

اکھلیش یادو نے کہا کہ بی جے پی اپنے انتخابی منشور کو بھی نظر انداز کر رہی ہے۔ وعدوں کا نہ پورا کرنا بدعنوانی سے کم نہیں ہے۔ ڈیزل، بجلی، کھاد ، بیج، جرثومہ کش ادویہ سب کی قیمتیں آسان چھو رہی ہی۔

اکھلیش یادو، تصویر یو این آئی
اکھلیش یادو، تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

لکھنؤ: سماجوادی پارٹی (ایس پی) سربراہ اکھلیش یادو نے آج کہا کہ جب سے بی جے پی حکومت اقتدار میں آئی ہے، کسانوں کی حالت بگڑتی گئی ہے۔ کھیتی کے کام آنے والی ہر چیز مہنگی ہوگئی ہے اور کسانوں کے اخراجات کا ڈیڑھ گنا دلانے اور 2022 تک کسانوں کی آمدنی دوگنی کرنے کا وعدہ صرف وعدہ بن کر رہ گیا ہے۔

اکھلیش یادو نے کہا کہ بی جے پی اپنے انتخابی منشور کو بھی نظر انداز کر رہی ہے۔ وعدوں کا نہ پورا کرنا بدعنوانی سے کم نہیں ہے۔ ڈیزل، بجلی، کھاد ، بیج، جرثومہ کش ادویہ سب کی قیمتیں آسان چھو رہی ہی۔ دھان کی کھیت کے اخراجات میں 40 فیصدی کا اضافہ ہوا ہے۔ کھیتی کی جتائی بھی ڈیڑھ گنا مہنگی ہوگئی ہے۔ پہلے سے اب مزدوری بھی زیادہ مہنگی ہوگئی ہے۔ کورونا بحران، بے روزگاری، مہنگے ٹرانسپورٹ سے سب سے زیادہ چھوٹے کسانوں پریشان ہیں۔ اترپردیش میں بجلی شرحیں سب سے زیادہ مہنگی ہیں۔ یہاں 175 روپئے فی ہارس پاور کی شرح سے نافذ ہے۔


ایس پی سربراہ نے کہا کہ گنا کسانوں کی حالت بہت خراب ہے۔ بی جے پی حکومت نے گنا کسانوں کو پوری طرح سے نظر انداز کیا ہے۔ بی جے پی حکومت کے پانچ سال ہونے کو ہیں، لیکن گنے کی قیمت میں ایک روپئے کا بھی اضافہ نہیں کیا گیا ہے۔ چینی مل مالک پوری طرح سے اپنی من مانی پر آمادہ ہیں۔ 12 ہزار کروڑ روپئے سے زیادہ کسانوں کا بقایہ ہے۔ اقتدار میں آنے کے بعد 14 دنوں کے اندر ہی بقایہ جات کی ادائیگی کا بی جے پی نے وعدہ کیا تھا۔ وعدہ کر کے بی جے پی سب بھول گئی، یہ کسانوں کے ساتھ ناانصافی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔