اگر ہم الگ الگ ریاستوں میں تقسیم ہو گئے تو ہندوستان نہیں بچ پائے گا: کیجریوال

وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے کہا کہ ’’میں مرکزی حکومت اور دہلی ہائی کورٹ کا شکریہ کرنا چاہتا ہوں، پچھلے دو تین دن میں انھوں نے ہماری بہت مدد کی ہے جس کی وجہ سے اب آکسیجن دہلی پہنچنے لگی ہے۔‘‘

اروند کیجریوال، تصویر یو این آئی
اروند کیجریوال، تصویر یو این آئی
user

تنویر

دہلی میں آکسیجن کا کوٹہ بڑھانے کے لیے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے مرکزی حکومت اور دہلی ہائی کورٹ کا شکریہ ادا کیا ہے۔ دہلی حکومت کے اندازے کے مطابق یو ٹی کو 700 ٹن روزانہ آکسیجن کی ضرورت تھی۔ مرکز نے اسے پہلے 378 ٹن طے کیا تھا، لیکن اب 480 ٹن تک بڑھا دیا ہے۔ ساتھ ہی کیجریوال نے سبھی ریاستی حکومتوں سے کورونا بحران سے مل کر لڑنے کی گزارش کی ہے۔

وزیر اعلیٰ کیجریوال نے کہا کہ ’’مرکزی حکومت آکسیجن کا کوٹہ طے کرتی ہے۔ دہلی میں آکسیجن نہیں بنتی ہے، باہر کی ریاستوں سے آتی ہے۔ آکسیجن کی کمپنیاں جن ریاستوں میں ہیں، ان میں سے کچھ ریاستی حکومتوں نے ان کمپنیوں سے دہلی کے کوٹے کی آکسیجن بھیجنی روک دی۔ ریاستوں نے کہا کہ دہلی کا کوٹہ بھی ہم استعمال کریں گے، دہلی کے ٹرک نہیں جانے دیں گے۔ میں مرکزی حکومت اور دہلی ہائی کورٹ کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں، پچھلے دو تین دن میں انھوں نے ہماری بہت مدد کی ہے جس کی وجہ سے اب آکسیجن دہلی پہنچنے لگی ہے۔‘‘

کیجریوال نے آگے کہا کہ ’’ہمارا آکسیجن کا جو کوٹہ بڑھا ہے، اس میں کافی آکسیجن اڈیشہ سے آنی ہے۔ بڑھے ہوئے کوٹے کی آکسیجن کو دہلی پہنچنے میں کچھ دن لگ جائیں گے، ہم کوشش کر رہے ہیں کہ ہوائی جہاز سے آکسیجن لائی جا سکے۔ یہ بہت بڑی آفت ہے۔ اگر اس میں ہم ہریانہ، پنجاب، تمل ناڈو، گجرات، مغربی بنگال میں تقسیم ہو گئے تو ہندوستان نہیں بچے گا۔ اس وقت ہمیں ایک دوسرے کی مدد کرنی ہے۔ اگر دہلی میں ضرورت سے زیادہ آکسیجن ہوگی تو ہم دوسری ریاستوں کو دیں گے۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔