ہند-امریکہ تجارتی معاہدہ: ’ایپسٹین فائلز کے خوف سے مودی نے ٹرمپ کے آگے پوری طرح سرینڈر کر دیا‘، کانگریس کا تلخ تبصرہ
کانگریس کے مطابق امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدہ سے متعلق مشترکہ بیان دیکھ کر صاف طور پر کہا جا سکتا ہے کہ مودی نے امریکہ کے ہاتھوں ملک کو فروخت کر دیا ہے۔
ہندوستان اور امریکہ کے درمیان تجارتی معاہدہ سے متعلق اہم جانکاریاں جیسے جیسے سامنے آ رہی ہیں، کانگریس مودی حکومت پر حملہ آور دکھائی دے رہی ہے۔ سب سے اہم بات تو یہی ہے کہ ہندوستانی سامانوں پر امریکہ 18 فیصد ٹیرف لگائے گا اور امریکی سامانوں پر ہندوستان میں صفر تک ٹیرف لگے گا۔ یہی وجہ ہے کہ ماہر معاشیات بھی اس تجارتی معاہدہ پر فکر ظاہر کر رہے ہیں۔ اب کانگریس نے واضح لفظوں میں کہا ہے کہ ’ایپسٹین فائلز کے خوف سے مودی نے ٹرمپ کے آگے پوری طرح سرینڈر کر دیا ہے۔‘‘
کانگریس نے اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر ہند-امریکہ تجارتی معاہدہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’روس سے تیل خریدنے کی وجہ سے ٹرمپ نے ہندوستان پر 25 فیصد ٹیرف لگایا تھا۔ اب اس ٹیرف کو ہٹاتے ہوئے ٹرمپ نے لکھا ہے– ’ہندوستان نے عزائم ظاہر کیے ہیں کہ وہ روس سے تیل نہیں خریدے گا۔ اب روس کی جگہ امریکہ سے تیل کی خریداری ہوگی۔‘ اتنا ہی نہیں، ٹرمپ نے دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے– ’ہم ہندوستان پر نگرانی رکھیں گے۔ اگر یہ لگا کہ ہندوستان پھر سے روس سے تیل خرید رہا ہے تو ہم فوراً ٹیرف ٹھوک دیں گے۔‘ ٹرمپ کے اس بیان سے صاف ہے کہ نریندر مودی کمپرومائزڈ ہیں۔ ٹرمپ جو چاہ رہے ہیں، ویسا ہی مودی کر رہے ہیں۔‘‘
کانگریس نے پی ایم مودی اور امریکی صدر ٹرمپ کی ایک خیالی گفتگو بھی اس سوشل میڈیا پوسٹ میں پیش کی ہے، جو اس طرح ہے:
ٹرمپ نے کہا– روس سے سستا تیل مت خریدو
مودی نے کہا– جیسا آپ کا حکم
ٹرمپ نے کہا– امریکہ کا مہنگا تیل خریدو
مودی نے کہا– جیسا آپ کا حکم
ٹرمپ نے کہا– ہم تم سے 18 فیصد ٹیرف وصول کریں گے
مودی نے کہا– جیسا آپ کا حکم
ٹرمپ نے کہا– تم ہم سے صفر ٹیرف لو گے
مودی نے کہا– جیسا آپ کا حکم
اس سوشل میڈیا پوسٹ کے آخر میں کانگریس نے لکھا ہے ’’مطلب یہ کہ مودی نے ملک کے فیصلہ، ملک کے وقار، سب کچھ ٹرمپ کے آگے رہن رکھ دیا ہے۔ صرف اس لیے کہ ایپسٹین فائلز میں جو ان کے کارنامے ہیں، وہ باہر نہ آئیں۔‘‘ ساتھ ہی یہ بھی لکھا ہے کہ ’’مودی آج جو کر رہے ہیں، اس کا نقصان ملک کو طویل وقت تک برداشت کرنا ہوگا۔‘‘
’ایکس‘ پر کیے گئے ایک دیگر پوسٹ میں ہند-امریکہ تجارتی معاہدہ سے متعلق سامنے آئے مشترکہ بیان کی کچھ تفصیل کا ذکر کیا گیا ہے۔ کانگریس نے اس پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’امریکہ کے ساتھ ہوئی ٹریڈ ڈیل کو لے کر جوائنٹ اسٹیٹمنٹ آ گیا ہے۔ اسے دیکھ کر صاف کہا جا سکتا ہے کہ مودی نے امریکہ کے ہاتھوں ملک کو فروخت کر دیا ہے۔ اس معاہدہ سے ہندوستان کے کسانوں، کاروباریوں، صنعت کاروں کو شدید نقصان ہوگا۔‘‘ پوسٹ میں بتایا گیا ہے کہ ’’بیان کے مطابق امریکہ ہم سے 18 فیصد ٹیرف وصول کرے گا، جو پہلے 3 فیصد سے کم ہوتا تھا۔ امریکہ سے ہندوستان آنے والے سامانوں پر ٹیرف ہٹائے گا یا کم کرے گا۔ مثلاً امریکہ سے آنے والے زراعت سے متعلق بڑی تعداد میں سامانوں پر ٹیرف نہیں لگے گا۔ امریکہ کے پھل، مویشی کے چارہ کے لیے لال جوار، ڈرائی فروٹ پر ٹیرف ہٹ جائے گا۔‘‘
اس سوشل میڈیا پوسٹ میں یہ جانکاری بھی دی گئی ہے کہ ’’ہندوستان اس بات پر راضی ہو گیا ہے کہ امریکی فوڈ اور کھیتی کسانی کی مصنوعات پر نان ٹیرف بیریر کو ہٹایا جائے گا۔ یعنی ہندوستان اپنے بازار کو پوری طرح امریکہ کے لیے کھول رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی امریکہ سے آنے والے کھانے پینے کے سامان پر بھی ٹیرف ہٹ جائے گا۔ ہندوستان کے کپڑا اور لباس، چمڑا اور جوتے، پلاسٹک اور ربر، آرگینک کیمیکل، گھر کی سجاوٹ کے سامان، کاریگر پروڈکٹ، مشینری، سب پر 18 فیصد ٹیرف لگے گا اور اس کا بہت نقصان ہندوستان کو ہوگا۔‘‘ ساتھ ہی مطلع کیا گیا ہے کہ ’’مودی نے ٹرمپ سے یہ بھی معاہدہ کیا ہے کہ ہندوستان آئندہ 5 سال میں 500 بلین ڈالر کا سامان امریکہ سے خریدے گا، مثلاً امریکی انرجی پروڈکٹ (تیل-گیس)، طیارہ و طیارہ کے پرزے، قیمتی میٹلس، ٹیکنالوجی پروڈکٹ، کھیتی کا سامان اور کوئلہ۔‘‘
کانگریس کا کہنا ہے کہ مجموعی طور پر یہ تجارتی معاہدہ امریکہ کے فائدے والا ہے اور اس سے ہندوستان کا شدید نقصان ہے۔ نریندر مودی نے کسانوں اور تاجروں کے مفادات کا ذرا بھی خیال نہیں رکھا۔ ہندوستان کا پورا بازار تھالی میں سجا کر ٹرمپ کو سونپ دیا۔ اس اہم اپوزیشن پارٹی نے الزام عائد کیا ہے کہ مودی ایسا اس لیے کر رہے ہیں، کیونکہ ان پر ’ایپسٹین فائلز‘ کا خوفناک دباؤ ہے۔ وہ کسی بھی حال میں خود کو بچانا چاہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے معاہدے پر دستخط کر دیا، جس سے ہندوستان کو سخت نقصان ہونے والا ہے۔