’انڈیا اتحاد کو واضح اور نتیجہ خیز مینڈیٹ ملنا طے‘، چھٹے مرحلہ کی ووٹنگ سے ایک دن قبل جئے رام رمیش کا دعویٰ

جئے رام رمیش کا کہنا ہے کہ پہلے دو مراحل کی ووتنگ کے بعد ہی شکست کے آثار دیکھ کر پی ایم مودی کی زبان بدل گئی اور انھوں نے انتخابی مہم کو بھی فرقہ وارانہ شکل دینا شروع کر دیا۔

جئے رام رمیش، تصویر آئی اے این ایس
جئے رام رمیش، تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

چنڈی گڑھ: کانگریس جنرل سکریٹری جئے رام رمیش نے چھٹے مرحلہ کی پولنگ سے ٹھیک ایک دن قبل یعنی 24 مئی کو ایک پریس کانفرنس کر دعویٰ کیا ہے کہ لوک سبھا انتخاب میں انڈیا اتحاد کو واضح اور نتیجہ خیز مینڈیٹ ملنا طے ہے۔ یہ پریس کانفرنس جئے رام رمیش نے چنڈی گڑھ میں کیا جہاں ساتویں مرحلہ میں یعنی یکم جون کو ووٹ ڈالے جائیں گے۔

جئے رام رمیش نے کہا کہ ملک میں پہلے دو مرحلہ کے انتخاب کے بعد ہی واضح ہو گیا تھا کہ بی جے پی جنوب میں صاف اور شمال میں ہاف ہونے جا رہا ہے۔ شکست کے آثار دیکھ کر 19 اپریل سے وزیر اعظم نریندر مودی کی زبان بدل گئی اور انھوں نے اپنی انتخابی مہم کو فرقہ وارانہ شکل دینا شروع کر دیا۔ انھوں نے ہر چیز کو ہندو-مسلم ایشو میں بدل دیا۔


کانگریس جنرل سکریٹری نے انکشاف کیا کہ مختلف ریاستوں سے فیڈ بیک آ رہا ہے کہ جہاں کانگریس پارٹی نے 2019 میں خراب کارکردگی پیش کی تھی، وہاں کانگریس کے حق میں انتہائی مثبت ماحول ہے۔ ایسی سیٹوں پر اس بار پارٹی بہت اچھی کارکردگی پیش کرنے جا رہی ہے۔ جئے رام رمیش کا کہنا ہے کہ ’’20 سال بعد تاریخ خود کو دہرانے جا رہی ہے۔ جس طرح کانگریس کی قیادت والا یو پی اے 2004 میں برسراقتدار ہوا تھا، اس بار بھی انڈیا اتحاد برسراقتدار ہوگا۔‘‘

انڈیا اتحاد کی حکومت بننے پر وزیر اعظم کسے بنایا جائے گا؟ اس سوال کے جواب میں جئے رام رمیش نے کہا کہ ’’انڈیا اتحاد کو اکثریت مل جائے گا تو کچھ ہی دنوں میں وزیر اعظم کی تقرری بھی ہو جائے گی۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’2004 میں ڈاکٹر منموہن سنگھ کی تقرری میں تین دن لگے تھے، اور اس بار اس سے بھی کم وقت لگ سکتا ہے۔‘‘


پریس کانفرنس میں جئے رام رمیش نے کانگریس کے ’5 نیائے‘ اور ’25 گارنٹیوں‘ کا بھی تذکرہ کیا اور کہا کہ یہ عوام کے حق میں اٹھایا جانے والا قدم ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’پی ایم مودی نے اپنے سرمایہ دار دوستوں کا 16 لاکھ کروڑ روپے کا قرض معاف کیا، لیکن کسانوں کا ایک روپیہ بھی معاف نہیں کیا۔ ڈاکٹر منموہن سنگھ کی قیادت میں تو یو پی اے حکومت نے 72 ہزار کروڑ روپے کا زرعی قرض معاف کیا تھا۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ کانگریس نے کسانوں کے لیے پانچ گارنٹیاں دی ہیں جن میں ایم ایس پی کی قانونی گارنٹی اور قرض معافی اہمیت کی حامل ہیں۔

مودی حکومت کی کسان مخالف پالیسیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے جئے رام رمیش نے کہا کہ مرکز کی طرف سے کچھ دن قبل سبھی ریاستوں کے چیف سکریٹریز کو ایک خط بھیجا گیا ہے۔ اس خط میں کہا گیا ہے کہ جو کسان پرالی جلاتے ہیں انھیں ایم ایس پی نہیں دینا چاہیے۔ لیکن کانگریس پارٹی اس کی مخالفت کرتی ہے۔ کانگریس نے کسان کے ساتھ ’شرمک نیائے‘، ’ناری نیائے‘ اور ’یوا نیائے‘ کی بات کی ہے۔ اس میں مزدوروں کی روزانہ کی مزدوری 400 روپے ہوگی۔ ہر غریب کنبہ کی ایک خاتون کو سالانہ ایک لاکھ روپے ملے گا۔ تعلیم یافتہ نوجوان کو ایک لاکھ روپے کی ایپرنٹس شپ کا حق ملے گا۔


کانگریس جنرل سکریٹری نے رواں لوک سبھا انتخاب کو آئین اور جمہوریت کو بچانے کا موقع قرار دیا اور کہا کہ ’’کانگریس آئین اور جمہوریت کو بچانے کے لیے الیکشن لڑ رہی ہے۔ یاد کیجیے کہ کس طرح بی جے پی نے چنڈی گڑھ میں میئر الیکشن میں فرضی طریقے سے اپنے امیدوار کو کامیاب بنا کر جمہوریت کا قتل کیا تھا۔‘‘ جئے رام رمیش نے اس موقع پر اعلان کیا کہ ایک بار جب انڈیا اتحاد مرکز میں حکومت بنا لے گا تو چنڈی گڑھ سمیت سبھی اہم شہروں میں میئر کے ڈائریکٹ الیکشن ہوں گے اور میئر پانچ سال کے لیے منتخب کیے جائیں گے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔