کپڑا اور جوتا کاروباریوں کے لیے جی ایس ٹی میں اضافہ مرکزی حکومت کا ظلم: کانگریس

دہلی کانگریس صدر چودھری انل کمار نے مرکزی حکومت کے ذریعہ کپڑے اور جوتے پر جی ایس ٹی کو 5 فیصد سے بڑھا کر 12 فیصد کیے جانے کی مذمت کی اور کہا کہ اس سے کاروباریوں پر اضافی بوجھ پڑے گا۔

تصویر بذریعہ پریس ریلیز
تصویر بذریعہ پریس ریلیز
user

قومی آوازبیورو

’’دہلی کا چاندنی چوک علاقہ کاروباریوں کا علاقہ ہے اور کووڈ وبا کے دوران معاشی بحران برداشت کر رہے کاروبری طبقہ پر مرکزی حکومت نے یکم جنوری سے ریڈیمیڈ کپڑوں، فیبرک اور جوتوں پر 12 فیصد جی ایس ٹی نافذ کر کے ملک بھر کے چھوٹے، درمیانے سمیت سبھی کپڑا صنعت سے جڑے کاروباریوں کی کمر توڑنے کا کام کیا ہے۔‘‘ یہ بیان دہلی پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر چودھری انل کمار نے 21 دسمبر کو دیا۔ انھوں نے کہا کہ جی ایس نافذ کرتے وقت مرکزی حکومت نے وعدہ کیا تھا کہ کنزیومیبل آئٹم پر جی ایس ٹی 5 فیصد مقرر کیا جائے گا جس پر مستقبل میں اضافہ نہیں ہوگا، لیکن مودی حکومت اپنے وعدہ وعدہ سے پیچھے ہٹ رہی ہے۔ چودھری انل کمار نے مطالبہ کیا کہ اپنے وعدے کے مطبق مرکزی حکومت کو کپڑوں و جوتوں پر لگے 12 فیصد جی ایس ٹی کو فوراً واپس لے کر کاروباریوں کو نئے سال میں راحت دینی چاہیے۔

چودھری انل کمار کی قیادت میں آج چاندنی چوک ضلع کانگریس کمیٹی کی مٹیالہ اسمبلی حلقہ کے حوض قاضی چوک، چاؤڑی بازار سے عوامی بیداری مہم کے تحت بی جے پی اور عآپ کی عوام مخالف اور غریب مخالف پالیسیوں کو ظاہر کر کے دہلی والوں کے سامنے لانے کے لیے ’پول کھول یاترا‘ نکالی گئی۔ اس موقع پر انل کمار نے کہا کہ بی جے پی کی مودی حکومت کے ذریعہ ریڈیمیڈ کپڑا صنعت پر جی ایس ٹی کو 5 فیصد سے بڑھا کر 12 فیصد کیا گیا جو کاروباری طبقہ پر ظلم ہے۔ انھوں نے کہا کہ مودی حکومت نے بڑے کاروباریوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے پالیسیوں کو آسان بنا کر ہزاروں کروڑ روپے معاف کیے ہیں، اور رٹیلر و چھوٹے کاروباریوں پر 12 فیصد جی ایس ٹی کی مار سے ان کی کمر توڑ دی ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ریڈیمیڈ کپڑوں اور جوتوں پر جی ایس ٹی میں دوگنا سے بھی زیادہ اضافہ کے فیصلہ سے کپڑوں کی قیمتیں 20 سے 25 فیصد مہنگی ہو جائیں گی۔


اس موقع پر چودھری انل کمار نے محلہ کلینک میں ڈاکٹروں کی غلط دوائی سے تین بچوں کی ہوئی موت کا بھی تذکرہ کیا۔ انھوں نے کہا کہ محلہ کلینک کے ڈاکٹروں کی غلط دوائیوں سے بچوں کی موت کے بعد کیجریوال حکومت دہلی کی عوام کے سامنے درست جانکاری پیش نہیں کر رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ کس محلہ کلینک میں یہ واقعہ ہوا اور بچوں کے سرپرستوں کے نام و پتے کیا ہیں، اس کی جانکاری دی جانی چاہیے۔ چودھری انل کمار نے کہا کہ ڈاکٹر کو معطل کرنے کی جانکاری میڈیا کو دینے سے مرے ہوئے بچے واپس نہیں آ سکتے۔ محلہ کلینک کی دوائی کے سبب ہوئیں اموات معاملے میں اروند کیجریوال عوامی طور پر دہلی کے باشندوں سے معافی مانگیں اور وزیر صحت ستیندر جین کو برخاست کریں۔

چودھری انل کمار نے سوال کیا کہ دہلی حکومت مہلوک بچوں کے گھر والوں کی پہچان کیوں چھپا رہی ہے۔ پہچان چھپانے سے صاف ہو جاتا ہے کہ محلہ کلینکوں کے انتظام اور دہلی حکومت میں کہیں نہ کہیں کمی ضرور ہے جس کی جانکاری دہلی کے لوگوں کو ملنی چاہیے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔