رام مندر کے نام پر کئی اداروں نے بٹوری رقم، مہنت پرمہنس نے امت شاہ کو لکھا خط

اپنے خط میں پرمہنس نے الزام عائد کیا ہے کہ جانکی گھاٹ کے مہنت جنمیجے شرن کے ذریعہ بنایا گیا ایک ادارہ اور ایسے کئی دیگر ادارے شری رام کے بھکتوں کے ساتھ دھوکہ دہی کر رہے ہیں۔

 پرمہنس، تصویر آئی اے این ایس
پرمہنس، تصویر آئی اے این ایس
user

تنویر

ایک طرف رام مندر کی تعمیر کا کام جاری ہے، اور دوسری طرف کبھی زمین خریداری میں بدعنوانی کی خبریں سامنے آ رہی ہیں تو کبھی چندہ کے نام پر لوٹ کا الزام عائد کیا جا رہا ہے۔ اب ایودھیا میں تپسوی چھاؤنی کے مہنت پرمہنس داس نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو ایک خط لکھ کر بتایا ہے کہ کئی ادارے ایسے ہیں جنھوں نے رام مندر کے نام پر موٹی رقم بٹوری ہے۔ مہنت پرمہنس کا کہنا ہے کہ رام جنم بھومی مندر تحریک کے نام پر بنے کئی اداروں نے گزشتہ کئی دہائیوں میں بھکتوں سے موٹی رقم بٹوری ہے اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔

اپنے خط میں پرمہنس نے الزام عائد کیا ہے کہ جانکی گھاٹ کے مہنت جنمیجے شرن کے ذریعہ بنایا گیا ایک ادارہ اور ایسے کئی دیگر ادارے شری رام کے بھکتوں کے ساتھ دھوکہ دہی کر رہے ہیں۔ پرمہنس نے اس خط کی ایک ایک کاپی صوبے کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ اور ایودھیا کے ضلع مجسٹریٹ انوج کمار جھا کو بھی بھیج دی ہے۔ انھوں نے خط میں امت شاہ اور یوگی آدتیہ ناتھ سے یہ یقینی کرنے کی گزارش کی ہے کہ ان اداروں کے ذریعہ جمع کی گئی رقم کو رام جنم بھومی تیرتھ چھیتر ٹرسٹ کو سونپ دیا جائے۔


ہندی نیوز پورٹل ’جن ستّا‘ میں شائع ایک رپورٹ میں مہنت پرمہنس داس کے حوالے سے لکھا گیا ہے کہ ’’میں نے وزیر داخلہ کو خط لکھ کر پوچھا ہے کہ جنھوں نے رام مندر کے نام پر ٹرسٹ بنائے اور چندہ جمع کیا، ان کی مناسب جانچ ہونی چاہیے اور وہ پیسہ آفیشیل رام جنم بھومی تیرتھ چھیتر ٹرسٹ کو دیا جانا چاہیے۔ میں نے مہنت جنمیجے شرن کی مثال پیش کی ہے جنھوں نے ’شری رام جنم بھومی مندر نرمان نیاس ٹرسٹ‘ کی تشکیل کی اور رام مندر کے نام پر بہت پیسہ اکٹھا کیا۔ ایک ٹرسٹ وشو ہندو پریشد کے ذریعہ بنایا گیا تھا جس کے سربراہ مہنت نرتیہ گوپال داس تھے۔ لیکن سپریم کورٹ کے فیصلے کی بنیاد پر ایک باضابطہ ٹرسٹ بننے کے بعد وہی لوگ اس ٹرسٹ میں آ گئے۔‘‘

مہنت پرمہنس کا کہنا ہے کہ ایسی چیزیں سنتوں اور مہنتوں کی معتبریت اور ارادے پر بڑے سوال کھڑے کرتی ہیں اور اس لیے جن لوگوں نے بھگوان رام کے نام پر پیسہ لیا ہے انھیں یہ یقینی کرنا چاہیے کہ اس کا استعمال مندر تعمیر میں کیا جائے۔ پرمہنس نے دعویٰ کیا کہ انھوں نے ایک بار اعلیٰ افسران سے شری رام جنم بھومی نیاس (جو اب سرگرم نہیں ہے) کے ذریعہ جمع کی گئی رقم کے بارے میں پوچھا تھا، جسے 1993 میں مندر تعمیر کو فروغ دینے اور اس کی دیکھ ریکھ کے لیے بنایا گیا تھا۔ کہا گیا تھا کہ اس کا استعمال مندر تعمیر، اس کے پتھروں کو تراشنے کے کام اور مندر کی سیکورٹی کے کام میں کیا گیا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔