بہار میں کورونا سے 5424 نہیں بلکہ 9375 افراد کی جان گئی! نتیش حکومت کا اعتراف

محکمہ صحت کے ایڈیشنل چیف سکریٹری پرتیا امرت نے پریس کانفریس میں کہا کہ اب تک اموات کی جو تعداد 5424 بتائی جا رہی تھی وہ غلط ہے کیونکہ ریاست میں اب تک 9375 افراد کی موت واقع ہو چکی ہیں

کورونا وائرس، علامتی تصویر / آئی اے این ایس
کورونا وائرس، علامتی تصویر / آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

پٹنہ: کورونا کی دوسری لہر کے دوران ہونے والی اموات اور سرکاری اعداد و شمار میں فرق پر لگاتار سوال اٹھ رہے ہیں اور یہ معاملہ بین الاقوامی اخباروں کی سرخیاں بھی بن چکا ہے۔ بکسر میں گنگا ندی میں تیرتی لاشیں اور پٹنہ کے شمشان گھاٹوں پر جل رہی چتائین بارہا سرکاری اعداد و شمار کی تردید کر رہی تھیں، تاہم اب نتیش حکومت نے خود اعتراف کر لیا ہے کہ اب تک اموات کی جو تعداد بتائی گئی ہے وہ غلط ہے اور حقیقتاً اس سے زیادہ اموات واقع ہوئی ہیں۔

بہار کے محکمہ صحت کے ایڈیشنل سکریٹری پرتیا امرت نے بدھ کے روز ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یہ معلومات فراہم کی۔ انہوں نے بتایا کہ ریاست میں ابھی تک اموات کی تعداد 5424 بتائی گئی تھی جو غلط ہے اور 7 جون تک کورونا کے سبب 9375 افراد کی موت ہو چکی ہے۔


خیال رہے کہ 18 مئی کو ریاستی حکومت نے کورونا سے واقع ہونے والی اموات کی تعداد کے حوالہ سے جانچ کرانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس کے لئے دو طرح کی ٹیمیں بنائی گئی تھیں، جانچ کے بعد پیش کی جانے والی رپورٹ میں اس لاپرواہی کا انکشاف ہوا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کورونا سے ہونے والی اموات کے معاملہ میں شدید بے ضابطگیاں موجود ہیں۔

پرتیا امرت نے اعتراف کیا کہ اس حساس معاملہ میں غیر حساسیت سے کام لیا گیا ہے۔ انہوں نے لاپرواہی برتنے والے افراد کے خلاف کارروائی کی بات تو کہی لیکن اب تک کتنے لوگوں پر کارروائی کی گئی! اس سوال پر وہ خاموش ہو گئے۔ اتنا ہی نہیں پرتیا امرت نے کورونا سے ہونے والی اموات میں بےضابطگیوں کی کچھ دلیلیں بھی پیش کر دیں۔


انہوں نے بتایا کہ متعدد افراد کی موت خانہ قرنطینہ میں ہو گئی، کافی لوگ متاثر ہونے کے بعد دوسرے اضلاع میں چلے گئے، جہاں ان کی موت ہوئی، کچھ لوگوں کی موت اسپتال جانے کے دوران ہو گئی اور کچھ کی موت کورونا سے شفایابی حاصل کرنے کے بعد واقع ہوئی، یہی وجہ ہے کہ صحیح تعداد حاصل نہیں ہو سکی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔