کانگریس مجلس عاملہ کی میٹنگ میں اہم قرارداد منظور، مغربی ایشیا بحران اور خارجہ پالیسی پر مودی حکومت کی سخت تنقید

کانگریس نے یاد دلایا کہ ملک کی خارجہ پالیسی مہاتما گاندھی کے اصولوں اور جواہر لعل نہرو کی غیر جانبدارانہ پالیسی سے متاثر رہی ہے، جس کا مقصد عالمی سطح پر امن، تعاون اور انصاف کو فروغ دینا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>کانگریس مجلس عاملہ کی میٹنگ کا منظر، تصویر ’ایکس‘&nbsp;<a href="https://x.com/kharge">@kharge</a></p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

کانگریس مجلس عاملہ (سی ڈبلیو سی) کی ایک اہم میٹنگ آج منعقد ہوئی، جس کی صدارت کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے کی۔ اس میٹنگ میں ملک کی خارجہ پالیسی، مغربی ایشیا کی بدلتی ہوئی صورتحال اور حکومت کے رویے پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ میٹنگ کے اختتام پر ایک اہم قرارداد منظور کی گئی، جس میں کئی اہم نکات کو اجاگر کیا گیا ہے۔

قرارداد میں کہا گیا کہ انڈین نیشنل کانگریس مغربی ایشیا میں جنگ بندی کا خیرمقدم کرتی ہے اور اسے کشیدگی کم کرنے، سفارتی کوششوں کو فروغ دینے اور مستقل امن کی جانب ایک اہم قدم مانتی ہے۔ کانگریس نے واضح کیا کہ کسی بھی تنازعہ کا حل جنگ یا طاقت کے استعمال سے نہیں بلکہ مذاکرات اور سفارتی ذرائع سے ہی ممکن ہے۔ قرارداد میں ریاستوں کی خود مختاری، بین الاقوامی قوانین کی پاسداری اور شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے پر زور دیا گیا۔


کانگریس نے اپنی تاریخی خارجہ پالیسی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستان ہمیشہ سے پنچ شیل، عدم تشدد اور عالمی امن کے اصولوں پر قائم رہا ہے۔ پارٹی نے یاد دلایا کہ ملک کی خارجہ پالیسی مہاتما گاندھی کے اصولوں اور جواہر لعل نہرو کی غیر جانبدارانہ پالیسی سے متاثر رہی ہے، جس کا مقصد عالمی سطح پر امن، تعاون اور انصاف کو فروغ دینا ہے۔

قرارداد میں مودی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا گیا کہ حالیہ برسوں میں ہندوستان کی خارجہ پالیسی کمزور ہوئی ہے، توانائی کی سیکورٹی پر دباؤ بڑھا ہے، پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات متاثر ہوئے ہیں اور عالمی سطح پر ہندوستان کی قائدانہ حیثیت کمزور پڑی ہے۔ اس کے نتیجے میں عام شہریوں پر بھی اثرات پڑے ہیں، مثلاً ضروری اشیاء کی قلت، بیرون ملک ہندوستانیوں کے لیے غیر یقینی صورتحال اور بدلتے عالمی حالات سے پیدا ہونے والی بے چینی۔ کانگریس نے الزام لگایا کہ موجودہ حکومت سفارتی محاذ پر سنجیدگی کے بجائے سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہی ہے۔


قرارداد میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ حکومت کی غیر مؤثر پالیسیوں کی وجہ سے خطے میں ہندوستان کا اثر و رسوخ کم ہوا ہے اور دیگر ممالک کو فائدہ پہنچا ہے۔ خاص طور پر پاکستان کے حوالے سے کہا گیا کہ اسے عالمی سطح پر اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کا موقع ملا ہے۔ میٹنگ میں یہ بھی کہا گیا کہ حکومت کو قومی مفاد کو ترجیح دینی چاہیے اور خارجہ پالیسی کو انتخابی سیاست سے الگ رکھنا چاہیے۔ کانگریس نے مطالبہ کیا کہ حکومت ایک واضح، متوازن اور دور اندیش خارجہ پالیسی اپنائے تاکہ ہندوستان عالمی سطح پر ایک مضبوط، فعال اور ذمہ دار آواز کے طور پر اپنی حیثیت برقرار رکھ سکے۔

قرارداد کے آخر میں مغربی ایشیا کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ ہندوستان کو ایک ذمہ دار عالمی طاقت کے طور پر امن، مذاکرات اور انسانی اقدار کے فروغ میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ کانگریس کی اس میٹنگ کو موجودہ سیاسی اور عالمی حالات کے تناظر میں کافی اہم مانا جا رہا ہے، جہاں پارٹی نے نہ صرف حکومت کی پالیسیوں پر سوال اٹھائے بلکہ اپنی نظریاتی سمت کو بھی واضح کیا۔