مغربی ایشیا کشیدگی: کانگریس کا الزام، مودی کی خارجہ پالیسی سے توانائی اور معاشی بحران کا خدشہ

کانگریس نے کہا کہ مودی حکومت کی مغربی ایشیا پالیسی کے سبب ہندوستان توانائی بحران کی طرف بڑھ رہا ہے۔ ہرمز راستہ بند ہونے، مہنگائی اور صنعتی اثرات پر بھی تشویش ظاہر کی گئی

<div class="paragraphs"><p>ویڈیو گریب</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

نئی دہلی: کانگریس نے مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے تناظر میں مرکزی حکومت کی خارجہ پالیسی کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کے طرز عمل کے باعث ہندوستان کو توانائی کے ساتھ ساتھ معاشی بحران کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

کانگریس کے میڈیا اور پبلسٹی شعبہ کے چیئرمین پون کھیڑا نے پارٹی دفتر میں منعقدہ پریس کانفرنس میں کہا کہ وزیر اعظم کے حالیہ دورۂ اسرائیل کے بعد پیش آنے والی صورتحال نے ہندوستان کے مفادات کو نقصان پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق ہندوستان ہمیشہ عالمی قوانین پر مبنی نظام کا حامی رہا ہے، مگر موجودہ حکومت نے اس اصولی موقف کا کھل کر اظہار نہیں کیا۔

پون کھیڑا نے طنزیہ انداز میں کہا کہ وزیر اعظم نے امریکہ اور اسرائیل کے سامنے کمزور رویہ اختیار کیا، جس کا براہ راست اثر ہندوستان کی توانائی سلامتی پر پڑ رہا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آخر ایسی کیا وجوہات ہیں کہ وزیر اعظم قومی مفاد میں مضبوط موقف اختیار کرنے سے گریزاں ہیں۔

انہوں نے آبنائے ہرمز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ راستہ، جہاں سے بڑی مقدار میں گیس کی سپلائی ہوتی تھی، اب ہندوستان کے لیے بند ہو چکا ہے، جبکہ دیگر ممالک کے لیے کھلا ہے۔ ان کے مطابق اس صورتحال کے باعث ہندوستان کے کئی تجارتی جہاز اور ہزاروں ملاح سمندر میں پھنسے ہوئے ہیں، جس سے تجارتی سرگرمیوں پر بھی منفی اثر پڑ رہا ہے۔


کھیڑا نے مزید کہا کہ ہندوستان پہلے ایران سے روپے میں تیل خریدتا تھا، جس سے زرمبادلہ کے ذخائر محفوظ رہتے تھے، مگر اب پالیسی میں تبدیلی کے باعث یہ فائدہ ختم ہو چکا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر حکومت نے مناسب حکمت عملی اپنائی ہوتی تو یہ راستہ ہندوستان کے لیے بھی کھلا رہ سکتا تھا۔

انہوں نے موجودہ معاشی صورتحال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے تقریباً نصف گھروں میں ایل پی جی کی قلت پیدا ہو گئی ہے اور اس کی قیمتیں غیر معمولی حد تک بڑھ رہی ہیں۔ ساتھ ہی صنعتی ایندھن اور پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ بھی عوام اور صنعت دونوں کے لیے مشکلات پیدا کر رہا ہے۔

کانگریس لیڈر نے کہا کہ اس بحران کا اثر چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں پر بھی پڑ رہا ہے، خاص طور پر کرناٹک میں ہزاروں صنعتیں متاثر ہو رہی ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ چند ہفتوں میں شیئر بازار میں بھاری گراوٹ دیکھی گئی ہے، جس سے سرمایہ کاروں کو بڑا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

پون کھیڑا نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ خارجہ پالیسی میں خود مختاری اور توازن قائم کرے تاکہ ہندوستان کے طویل مدتی مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں مضبوط اور واضح موقف ہی ملک کو ممکنہ بحران سے بچا سکتا ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔