’مودی حکومت سیاسی فائدے کے لیے طلب کر رہی پارلیمانی اجلاس‘، سی ڈبلیو سی میٹنگ میں کانگریس صدر کھڑگے کا تبصرہ
کھڑگے نے کہا کہ جو جانکاریاں ملی ہیں، اس کے مطابق حکومت وومن ریزرویشن کو 2029 کے عام انتخاب سے نافذ کرنا چاہتی ہے۔ اس کے علاوہ لوک سبھا اور اسمبلیوں کی موجودہ سیٹوں کو 50 فیصد بڑھانا چاہتی ہے۔

کانگریس کے صدر ملکارجن کھڑگے نے جمعہ کے روز کانگریس مجلس عاملہ (سی ڈبلیو سی) کی میٹنگ میں مرکز کی مودی حکومت کو کئی معاملے میں ہدف بنایا۔ انھوں نے کہا کہ ’’آپ سبھی جانتے ہیں مودی حکومت طویل خاموشی کے بعد اچانک خواتین ریزرویشن کے معاملے پر سرگرم ہو گئی ہے۔ اسی سلسلے میں لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں میں خواتین کے لیے 33 فیصد ریزرویشن کے مسئلہ پر 16 سے 18 اپریل کے درمیان پارلیمنٹ کا اجلاس ہونے جا رہا ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’اس بارے میں اب تک حکومت کی طرف سے ہمیں کوئی باضابطہ تجویز نہیں ملی ہے۔ وزیر اعظم کے لکھے گئے مضمون کو پڑھ کر ہمیں کچھ باتوں کا اندازہ ہوا ہے۔ اس اجلاس میں حکومت ایک اہم آئینی ترمیمی بل پاس کرانا چاہتی ہے تاکہ آنے والے اسمبلی انتخابات میں اس کا کریڈٹ اور فائدہ حاصل کیا جا سکے۔‘‘
کھڑگے کا کہنا ہے کہ اب تک ملنے والی معلومات کے مطابق حکومت خواتین ریزرویشن کو 2029 کے انتخابات سے نافذ کرنا چاہتی ہے۔ اس کے علاوہ وہ لوک سبھا اور اسمبلیوں کی موجودہ نشستوں میں 50 فیصد اضافہ کرنے کی بھی خواہش مند ہے۔ لوک سبھا کی نشستوں کو 543 سے بڑھا کر 816 کرنے کا منصوبہ ہے اور اسمبلیوں میں بھی اسی تناسب سے اضافہ ہوگا۔ اس حد بندی (ڈیلیمیٹیشن) تجویز کے سنگین نتائج ہوں گے، اس لیے اس پر گہرے غور و فکر کی ضرورت ہے۔
کانگریس صدر کے مطابق مودی حکومت پارلیمنٹ کا اجلاس اپنے سیاسی فائدے کے مقصد سے بلا رہی ہے۔ وہ جلد از جلد آئینی ترمیمی بل منظور کرانا چاہتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’ہم نے اور اپوزیشن پارٹیوں کے فلور لیڈرس نے پارلیمانی امور کے وزیر کو 3 بار خط لکھ کر کہا تھا کہ 29 اپریل کو مغربی بنگال انتخابات کے آخری مرحلے کے بعد حکومت آل پارٹی میٹنگ بلائے اور سنجیدگی سے اس پر بحث کی جائے۔ لیکن ہماری درخواستوں کے باوجود حکومت نے صرف بیانیہ بدلنے اور انتخابی فائدے کے لیے ہماری بات نہیں مانی۔‘‘ انھوں نے اسے انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی قرار دیا اور کہا کہ الیکشن کمیشن سے، جو وزارتِ داخلہ کے ماتحت دفتر کی طرح کام کر رہا ہے، یہ امید نہیں رکھتے کہ وہ ان باتوں پر توجہ دے گا۔
کانگریس صدر کھڑگے نے کہا کہ پارلیمنٹ کا یہ اجلاس ایسے وقت میں بلایا گیا ہے جب تمل ناڈو اور مغربی بنگال کے اسمبلی انتخابات کی وجہ سے بیشتر اراکین پارلیمنٹ اپنے حلقوں میں مصروف ہیں، لیکن مودی حکومت کے لیے یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ جمہوریت کو کمزور کرنا اور منمانے فیصلے لینا اس کی عادت بن گئی ہے، جس کی ہم مسلسل مخالفت کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ خواتین ریزرویشن کانگریس کی سماجی انصاف کی پالیسی کا ایک لازمی حصہ ہے۔ خواتین کو بااختیار بنانے میں کانگریس ہمیشہ آگے رہی ہے۔ ہمیں خواتین اور سماج کے کمزور طبقات کی فلاح جیسے مسائل پر کسی سے سرٹیفکیٹ لینے کی ضرورت نہیں ہے۔ کانگریس لیڈر کا کہنا ہے کہ ’’پنچایتی راج اداروں اور شہری بلدیات میں خواتین کے ایک تہائی ریزرویشن کے خواب کو کانگریس نے حقیقت بنایا۔ اس کی ابتدا راجیو گاندھی نے کی تھی۔ 73ویں اور 74ویں آئینی ترامیم 1993 میں کانگریس حکومت کے دور میں نافذ ہوئیں۔ اسی کے نتیجے میں آج دیہی اور شہری بلدی اداروں میں تقریباً 14.5 لاکھ خواتین منتخب نمائندے ہیں۔‘‘
ملکارجن کھڑگے نے ماضی کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ تاریخ گواہ ہے آج سے 100 سال پہلے جب خواتین کو ووٹ دینے کا حق بھی حاصل نہیں تھا، تب سروجنی نائیڈو کانگریس کی پہلی ہندوستانی خاتون صدر بنی تھیں۔ اس کے بعد سے لے کر سی پی پی کی چیئرپرسن سونیا گاندھی تک کئی خاتون رہنماؤں نے پارٹی کی قیادت کی ہے۔ کانگریس حکومتوں میں خواتین نے اہم کردار ادا کیے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’خواتین ریزرویشن کے معاملے میں کانگریس مسلسل سرگرم رہی ہے اور جب بھی موقع ملا، اس کے لیے کوششیں کی ہیں۔ ہم نے مودی حکومت پر مسلسل دباؤ بنایا۔ سونیا گاندھی اور راہل گاندھی نے کئی خطوط لکھے۔ 2023 میں حیدرآباد میں کانگریس ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ میں اس معاملے پر تفصیلی بحث ہوئی تھی اور حکومت سے خصوصی اجلاس بلا کر خواتین ریزرویشن بل پاس کرنے کی اپیل کی گئی تھی۔‘‘
حد بندی معاملہ پر کانگریس صدر نے اپنی شدید تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’23 ستمبر 2023 کو آئینی ترمیمی بل پر تقریر کرتے ہوئے میں نے ایوان میں اسے فوری نافذ کرنے کا مطالبہ کیا تھا، لیکن حکومت نے طے کیا کہ اسے حد بندی (ڈیلیمیٹیشن) اور مردم شماری کے بعد ہی نافذ کیا جائے گا۔ آج ہم نے سی ڈبلیو سی کی میٹنگ اس لیے بلائی ہے تاکہ پارلیمنٹ میں پیش ہونے والی مجوزہ ترامیم پر آپ سب کی رائے لے کر ایک مضبوط حکمت عملی تیار کی جا سکے۔‘‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’’مجوزہ ترامیم ہمارے انتخابی نظام پر سنگین اثر ڈال سکتی ہیں، اس لیے اس میٹنگ کے بعد ہم اپوزیشن کے ساتھیوں کے ساتھ بھی اس پر بات چیت کریں گے اور مشترکہ حکمت عملی بنائیں گے۔ ہم متحد ہو کر آگے بڑھیں گے۔‘‘
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔