خصوصی اجلاس سے قبل تنازعہ: کانگریس کا الزام- ’حکومت نے ’ناری شکتی وندن ایکٹ‘ اور حلقہ بندی پر یکطرفہ فیصلہ کیا‘
کانگریس نے الزام لگایا ہے کہ حکومت نے اپوزیشن کو اعتماد میں لیے بغیر پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس بلایا، جس میں ’ناری شکتی وندن ایکٹ‘ میں ترمیم اور حلقہ بندی جیسے اہم معاملات پر بحث ہوگی

نئی دہلی میں کانگریس کے سینئر لیڈر جے رام رمیش نے پارٹی ہیڈکوارٹر میں ایک پریس بریفنگ کے دوران مرکزی حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس کو لے کر حکومت نے اپوزیشن کو نظر انداز کیا اور اہم آئینی معاملات پر یکطرفہ قدم اٹھایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 16، 17 اور 18 اپریل کو بلائے گئے اس خصوصی اجلاس کے پیچھے حکومت کے سیاسی مفادات کارفرما ہیں، نہ کہ جمہوری مشاورت۔
جے رام رمیش کے مطابق 16 مارچ کو مرکزی وزیر کرن رجیجو نے راجیہ سبھا میں قائد حزب اختلاف ملکارجن کھرگے کو خط لکھ کر کانگریس سے بات چیت کی خواہش ظاہر کی تھی۔ اس خط میں ناری شکتی وندن ایکٹ میں ممکنہ ترمیم کا ذکر کیا گیا تھا۔ کھرگے نے اسی دن جواب دیتے ہوئے واضح کیا تھا کہ اس طرح کے اہم معاملے پر تمام جماعتوں کو شامل کرتے ہوئے ایک آل پارٹی میٹنگ بلائی جائے اور تحریری تجویز پیش کی جائے تاکہ اجتماعی طور پر اس پر غور کیا جا سکے۔
بعد ازاں 24 مارچ کو اپوزیشن کی دیگر جماعتوں نے بھی کرن رجیجو کو خط لکھ کر کہا کہ چونکہ 29 اپریل کے بعد انتخابی ضابطہ اخلاق نافذ ہوگا، اس لیے اس کے بعد آل پارٹی میٹنگ بلائی جائے۔ تاہم 26 مارچ کو رجیجو نے دوبارہ کھرگے کو خط لکھ کر کانگریس سے براہ راست بات چیت کی درخواست کی، جسے کھرگے نے ایک بار پھر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اجتماعی مشاورت ہی جمہوری طریقہ ہے۔
جے رام رمیش نے دعویٰ کیا کہ 16 مارچ سے 26 مارچ کے درمیان خطوط کے تبادلے کے باوجود حکومت پہلے ہی یہ طے کر چکی تھی کہ اپریل کے اوائل میں خصوصی اجلاس بلایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ آخرکار حکومت نے یکطرفہ فیصلہ کرتے ہوئے 16 سے 18 اپریل تک اجلاس طلب کر لیا، جو مغربی بنگال اور تمل ناڈو کے انتخابات سے عین قبل ہوگا، جس سے حکومت کی نیت پر سوال اٹھتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ کرن رجیجو کے خطوط میں صرف ناری شکتی وندن ایکٹ کا ذکر تھا، لیکن اب واضح ہو گیا ہے کہ اس اجلاس میں حلقہ بندی یعنی نئی حد بندی کا معاملہ بھی شامل ہے، جس کا اپوزیشن کے ساتھ کبھی ذکر نہیں کیا گیا۔ کانگریس کے مطابق یہ ایک سنگین معاملہ ہے کیونکہ حلقہ بندی براہ راست نمائندگی کے ڈھانچے کو متاثر کرتی ہے۔
جے رام رمیش نے یاد دلایا کہ ستمبر 2023 میں نئے پارلیمنٹ ہاؤس کے افتتاح کے موقع پر ناری شکتی وندن ایکٹ پاس کیا گیا تھا، جس میں خواتین کو ایک تہائی ریزرویشن دینے کی بات کہی گئی تھی، لیکن اس کے نفاذ کو مردم شماری اور حلقہ بندی سے مشروط کر دیا گیا تھا۔ اس وقت بھی ملکارجن کھرگے نے سوال اٹھایا تھا کہ اسے فوری طور پر نافذ کیوں نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے اس وقت دلیل دی تھی کہ مردم شماری اور حلقہ بندی ضروری ہیں، مگر اب تقریباً 30 ماہ گزرنے کے باوجود نہ تو مردم شماری مکمل ہوئی اور نہ ہی اس قانون پر عمل درآمد ہوا۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ حکومت جان بوجھ کر تاخیر کر رہی ہے تاکہ مناسب وقت پر سیاسی فائدہ اٹھایا جا سکے۔
جے رام رمیش کے مطابق رجسٹرار جنرل اور مردم شماری کمشنر کے بیانات سے یہ واضح ہے کہ 2027 میں مردم شماری کے نتائج آنا شروع ہوں گے، اس کے باوجود حکومت پارلیمنٹ کو یہ کہہ رہی ہے کہ اس عمل میں مزید کئی سال لگیں گے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت اب جلدی میں ترمیم لا کر 2029 کے انتخابات سے قبل اس قانون کو نافذ کرنا چاہتی ہے تاکہ اس کا سیاسی فائدہ اٹھایا جا سکے۔
کانگریس نے اس پورے معاملے کو جمہوری اصولوں کے خلاف قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ایسے اہم آئینی معاملات پر تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لیا جائے اور شفاف طریقے سے فیصلہ کیا جائے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔