جھارکھنڈ: آئی اے ایس افسر نے تیار کی نوٹوں اور ٹکٹوں کو کورونا سے پاک  کرنے کی مشین

آدتیہ رنجن نے کہا کہ کورونا انفیکشن سے بچنے کے لئے لوگوں سے فاصلہ رکھنا ایک مناسب طریقہ سمجھا جاتا ہے۔ جبکہ رقم کے لین دین سے بھی وائرس پھیل سکتا ہے۔ لیکن اس مشین کے استعمال سے وائرس سے بچا جا سکتا ہے

تصویر آئی اے این ایس
تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

چائباسا (جھارکھنڈ): ایک طرف جہاں لوگ کورونا انفیکشن سے پریشان ہیں وہیں اس دور میں بہت سے تخلیقی اور فلاحی کام بھی انجام دیئے جا رہے ہیں۔ اس ضمن میں جھارکھنڈ کے مغربی سنگھ بھوم میں ڈپٹی کمشنر آف ڈیولپمنٹ (ڈی ڈی سی) کی حیثیت سے کام کرنے والے ایک انڈین سول سروسز کے افسر آدتیہ رنجن نے تخلیقی کام کرتے ہوئے ایک مشین تیار کی ہے جس سے بینک نوٹ، چیک اور ڈرافٹ کو جراثیم اور انفیکشن سے پاک کیا جا سکتا ہے۔ اس سے بینک اہلکاروں اور ریلوے ملازمین کو تحفظ ملے گا۔

مغربی سنگھ بھوم کے ڈپٹی کمشنر اروا راج کمل نے بدھ کے روز یہ مشین چائباسہ میں واقع بینک آف انڈیا کی مرکزی شاخ کو سونپ دی۔ ڈی ڈی سی کی تیار کردہ اس مشین کو جنوب مشرقی ریلوے ہیڈ کوارٹر چکر دھر پور ریلوے اسٹیشن کے ٹکٹ کاؤنٹر پر بھی دستیاب کرئی جائے گی۔

ڈپٹی کمشنر آدتیہ رنجن نے کہا کہ لوگوں کو کورونا انفیکشن سے بچنے کے لئے لوگوں سے فاصلہ رکھنا ایک مناسب طریقہ سمجھا جاتا ہے۔ جبکہ رقم کے لین دین سے بھی وائرس پھیل جانے کا امکان ہے۔ ایسی صورت میں اس مشین کو استعمال کرکے ہر قسم کے خدشات کو ختم کیا جاسکتا ہے۔ ڈی ڈی سی نے آئی اے این ایس کو بتایا کہ اس مشین کو تیار کرنے میں 3 ہزار سے 3500 روپے خرچ ہوئے ہیں۔

اس مشین کو بنانے کا خیال کیسے آیا؟ یہ سوال کیے جانے پر انہوں نے کہا، ’’مہاراشٹر اور دیگر مقامات سے گردش کرنے والی متعدد ویڈیوز میں دیکھا گیا ہے کہ خواتین کے ذریعہ نوٹوں کو پریس (آئرن) کے ذریعے جراثیم سے پاک کیا جا رہا ہے۔ اسی تجربے کے پیش نظر مشین کو 11 واٹ کے الٹرا وایلیٹ بلب کے ساتھ لیمینیشن مشین کا استعمال اس مشین کو بنانے میں کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا ’’اس سے نوٹ یو وی (الٹرا وائلٹ) ایکشن کے ساتھ 300 ڈگری فارن ہائیٹ درجہ حرارت پر نوٹ پانچ سے سات سیکنڈ کے لئے گزرتا ہے، جس سے ہر قسم کے جراثیم اور وائرس غیر فعال ہو جاتے ہیں۔‘‘

انہوں نے کہا کہ پچھلے کچھ سالوں سے ملک میں منی ٹرانزیکشن میں ڈیجیٹل طریقوں کو فروغ دیا جا رہا ہے، لیکن ابھی بھی کچھ جگہوں پر نقد لین دین کا اسعمال جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں ڈیجیٹل لین دین ہو رہا ہے وہاں ایسی مشینوں کی ضرورت نہیں ہے، لیکن جہاں یہ نہیں ہو رہا ہے، وہاں اس کا استعمال کر کے خود کو اور دوسروں کو محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگ بہت کم پیسہ خرچ کرکے بھی ایسی مشینیں بنا سکتے ہیں۔

رنجن نے بی آئی ٹی میسرا سے انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی ہے۔ بوکارو میں پیدا ہوئے اور ایک سرکاری اسکول سے پرائمری تعلیم حاصل کرنے والے آدتیہ رنجن اس سے قبل ایک روبوٹکس ڈیوائس ’کی بوٹ‘ تیار کر چکے ہیں جو ریموٹ کنٹرول سے چلتی ہے اور کسی بھی مریض کو کھانا، دوائیں، پانی وغیرہ فراہم کر سکتی ہے۔

اس کے علاوہ رنجن کورونا وائرس کلیکشن سینٹر اور ’فیس شیلڈ‘ بھی بنا چکے ہیں، جس کا فائدہ محکمہ صحت کے کارکنان اٹھا رہے ہیں۔ انہوں نے کورونا مریضوں کے لئے ہائی ٹیک آئسولیشن بیڈ بھی تیار کیا ہے۔

Published: 23 Apr 2020, 7:00 PM