شوہر کا قتل کرنے والی بیوی بھی فیملی پنشن کی حقدار! ہائی کورٹ کا دلچسپ فیصلہ

ہریانہ - پنجاب ہائی کورٹ نے فیصلہ سنایا ہے کہ قتل کرنے والی بیوی کو بھی پنشن سے محروم نہیں رکھا جا سکتا، ہریانہ حکومت نے خاتون کی پنشن روک دی تھی، خاتون کو شوہر کے قتل کی سزا سنائی گئی ہے

پنجاب - ہریانہ ہائی کورٹ / تصویر سوشل میڈیا
پنجاب - ہریانہ ہائی کورٹ / تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

چنڈی گڑھ: پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ نے خاندانی پنشن سے متعلق ایک دلچسپ فیصلہ سنایا ہے۔ فیصلہ کے مطابق اگر بیوی اپنے شوہر کا قتل بھی کر دیتی ہے، تو بھی وہ خاندانی پنشن حاصل کرنے کی حقدار ہے۔ بلجیت کور بمقابلہ ریاست ہریانہ کیس میں ہائی کورٹ نے 25 جنوری کو فیصلہ سناتے ہوئے کہا، ’سنہری انڈا دینے والی مرغی کو کوئی ذبح نہیں کرتا۔‘

این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ہائی کورٹ نے اپنے فیصلہ میں کہا کہ بیوی کو کسی بھی صورت میں خاندانی پنشن سے محروم نہیں کیا جا سکتا، اگر بیوی نے شوہر کو قتل کیا ہو تب بھی ایسا نہیں کیا جا سکتا۔ فیملی پنشن ایک ویلفیئر اسکیم ہے جو سرکاری ملازم کی موت ہونے کی صورت میں اس کے خاندان کو مالی امداد مہیا کرتی ہے۔ بیوی اگر فوجداری مقدمہ میں قصوروار پائی جاتی ہے تو بھی وہ فیملی پنشن کی حقدار ہے۔


بلجیت کور کی عرضی پر ہائی کورٹ نے یہ فیصلہ سنایا۔ انبالہ کی رہائشی بلجیت کور نے عدالت عالیہ کو بتایا کہ ہریانہ حکومت کے ملازم ترسیم سنگھ کی 2008 میں موت واقع ہوئی تھی اور 2009 میں اس کا نام قتل کے کیس میں درج کر لیا گیا اور 2011 میں اسے مجرم قرار دیا گیا۔ بلجیت کور 2011 تک فیملی پنشن حاصل کرتی رہی لیکن قصور وار ٹھہرائے جانے کے بعد حکومت ہریانہ نے بنشن جاری کرنے پر روک لگا دی۔

پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ نے ہریانہ حکومت کے اس فیصلہ کو کالعدم قرار دیتے ہوئے متعلقہ محکمہ کو تمام بقایہ جات کے ساتھ عرضی گزار کو دو مہینے کے اندر پشن ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔ خیال رہے کہ بیوی کو سی سی ایس (پنشن) رولز، 1972 کے تحت شوہر کی موت کے بعد فیملی پنشن کی حقدار مانا جاتا ہے۔ سرکاری ملازم کی موت کے بعد اگر اس کی بیوی دوسری شادی کر لیتی ہے تو بھی وہ فیملی پنشن حاصل کرنے کی حقدار ہوتی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 31 Jan 2021, 6:40 PM