وزیر داخلہ کانگریس کو لے کر جھوٹ نہ پھیلائیں، گجرات میں ہزاروں گایوں کی موت پر توجہ دیں: جئے رام رمیش

گجرات کے کم از کم 14 اضلاع میں گئو نسل کیپری پوکس وائرس (ایک ایل ایس ڈی وائرل بیماری) کا شکار ہو رہی ہیں جو گائے اور بھینس دونوں کو متاثر کرتی ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

گجرات کے کئی اضلاع میں ہزاروں گئو نسل کی اموات کی خبر سرخیوں میں ہے۔ جگہ جگہ انتظامیہ کے لوگ گایوں کو دفن کرتے ہوئے یا پھر ٹھکانہ لگاتے ہوئے دیکھےگئے ہیں۔ اس سلسلے میں کانگریس نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ کانگریس کے سینئر لیڈر اور رکن پارلیمنٹ جئے رام رمیش نے مردہ اور دفن گایوں کی کچھ تصویریں اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے شیئر کی ہیں۔ اس کے ساتھ انھوں نے لکھا ہے کہ ’’کانگریس کو لے کر جھوٹ پھیلانے کی جگہ وزیر داخلہ کو گجرات کے 14 اضلاع میں ہزاروں گئو نسل کی ہوئیں اموات سے متعلق اعداد و شمار پر دھیان دینا چاہیے۔ وہاں سے آ رہی تصویریں تکلیف دہ ہیں اور اپنی کہانی بتا رہی ہیں!‘‘

قابل ذکر ہے کہ راجستھان کے 9 اضلاع اور گجرات کے کم از کم 14 اضلاع میں گئو نسل کیپری پوکس وائرس (ایک ایل ایس ڈی وائرل بیماری) کا شکار ہو رہی ہیں جو گائے اور بھینس دونوں کو متاثر کرتی ہے۔ اس بیماری سے ہزاروں گائیں ہلاک ہو چکی ہیں اور ہزاروں بیمار گئو نسل کا علاج بھی ہو رہا ہے۔ گجرات سے کئی ایسی تصویریں سامنے آئی ہیں جن میں مردہ گایوں کو گڈھوں میں دیکھا جا سکتا ہے، اور کچھ تصویروں میں بیمار گایوں کا علاج ہوتے بھی دیکھا گیا ہے۔ مقامی گئو رکشکوں نے اجتماعی قبریں بنائی ہیں جہاں وہ روزانہ بیماری سے ہلاک ہونے والے مویشیوں کو ڈالتے ہیں۔


میڈیا رپورٹس کے مطابق کئی مقامات پر غیر سرکاری تنظیموں، گئو رکشکوں، مذہبی تنظیموں، وشو ہندو پریشد اور آر ایس ایس کی ’سیوا سادھنا‘ کے والنٹیرس مویشیوں کے لیے دوائیں اور کھانے کا انتظام کر رہے ہیں۔ کچھ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ بیشتر بیماری آوارہ مویشیوں میں پھیلی ہے جنھیں دودھ دینا بند کرنے کے بعد سڑکوں پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ ریاست میں گئوکشی پر روک لگانے کے بعد گزشتہ کچھ سالوں میں ایسے آوارہ مویشیوں کی تعداد کافی بڑھی ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔